بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 30
۵۷ ۵۶ بالوہیت تھی کا پی ال بے مثال جمال قدم مومن و مسلمان کے ريجة الصدور من امش ان تمام حوالہ جات سے صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ بہائی لوگ اس دا، چنان در صدد ایزا و قتل آنحضرت افتادند که بغلک چهارم فرار نموده رایقان میلا (۲) شتمین نمالی عینی از میان قوم غائب شد و بفلک چهارم توحید کے ہرگز قائل نہیں جسے اسلام نے پیش کیا ہے۔وہ مسیح علیہ اسلام ارتقاء فرمود: ایقان مشک کو بھی ایک رنگ میں الوحدت کے تحت پر مانتے ہیں اور بہاء اللہ کو بھی (۳) وارد شد بر آن جمال اقدس آنچه که اہل فردوس نوجه نمودند معبود حقیقی سمجھتے ہیں۔معزز حاضرین ! بہائیت کی اس مشرکانہ تعلیم کے یقے پر آنحضرت امر صعب شد که حق جل جلاله با راده عالیه کے مقابل پر تحریک احمدیت حسب ذیل عقیدہ توحید کی تلقین کرتی ہے۔رالف ، وہ یقین کریں کہ ان کا ایک قادر اور قیوم اور خالق الکل خدا ہے جو اپنی صفات میں ازلی ابدی اور غیر متغیر ہے۔نہ وہ کسی کا بیٹا نہ کوئی اس کا بیٹا۔وہ دیکھ اٹھانے اور صلیب پر چڑھنے اور مرنے سے پاک ہے۔یہ دکشتی نوح منا، (ب) ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالے کے سوا کوئی معبود نہیں اور سید نا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں " ایام صلح منه) بماء چهارم صعودش داد الواح مش۲۷) (م) وانظر الى عيسى ابن مريم الشارق قبل خاتم الانبياء۔۔۔۔۔كالواله الاضطهاد جزافاً متى ضاقت عليه الارض بوسعتها الى ان عرجه 46-94 الله الى السماء ومقاله سیاح عربی مشه) ان بیانات سے ظاہر ہے کہ بہاء اللہ کے نزدیک حضرت مسیح علیہ اسلام سے بچ کر زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ظاہر ہے کہ یہی عقیدہ ایران کے عام مسلمانوں کا تھا۔بعد ازاں جناب عبد البہاء چپ بلا و تربیہ میں گئے اور (۲) عقید تصلب شیخ ابہائی صاحبان قرآن مجید کے خلاف حضرت انہوں نے عیسائیوں کے ساتھ اختلاط اختیار کیا۔تو انہوں نے یہ عقیدہ مسیح علیہ السلام کے متعلق دو متضاد حقیرے اختیار کر لیا۔کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب و مقتول ہو گئے تھے اور ان کی رکھتے ہیں۔جناب بہاء اللہ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو چوستے آسمان پر یہ صلیبی موت بطور فدیہ اور کفارہ کے تھی۔اس بارے میں جناب عبد البہار کے بہاء علیہ زندہ قرار دیا ہے جس طرح کہ عامتہ الناس مسلمان خیالی کرتے ہیں اس کیلئے حسب ذیل تین بیان آپ کے سامنے پیش ہیں۔عبد البہاء فرماتے ہیں:۔جناب بہاء اللہ کی تحریرات کے چارا اقتباس بیان کرتا ہوں :- ا دروست بود افتاد و اسیر بر دو ظلوم و جهول گردید و عاقبت