بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 31 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 31

۵۹ An مصلوب شده ( مفاوضات مه - البته مقتول و مصلوب ،گردد، اهدا حضرت مسیح در وقتی که طبعی موت سے فوت ہوئے۔اس جگہ بھائی صاحبان کے لئے عجیب شکل در پیش ہے۔اگر وہ میچ کو اظهار امر فرموده ند جان را فدا کردند و صلیب را سر ید دانستند و آسمانوں پر زندہ مانیں جیسا کہ جناب بہاء اللہ کے بیان کا مفاد ہے تو جناب زخم را مریم و زیر را شهید و شکر شمردند ومفاوضات ملت - حضرت مسیح خود را خدا کرد تا خلق از نقائص طبیعت جسمانی خلاص شوند و بفضائل طبیعت رو حانیه منتصف گردنده (مفاوضات مکش گویا عبد البہاء کے نزدیک حضرت مسیح مقتول و مصلوب ہوئے اور عبد البہاء کا عقیدہ باطل ہرتا ہے۔اور اگر وہ جناب عبد البہار کے عقیدہ کو درست قرار دیں تو انہیں ماننا پڑے گا کہ بہاء اللہ کا عقیدہ دربارہ حیات مسیح سراسر نا درست ہے ہے من نه گویم که این مکن آن کن : مصلحت ہیں و کار آسان کی تحریک احمدیت حضرت مسیح علیہ السلام کو وفات یافتہ مانتی ہے اور ہر جناب بہاء اللہ کے نزدیک حضرت مسیح مصلوب و مقتول ہونے سے بچ کر احمدی قرآن مجید کی رو سے یقین رکھتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیبی زندہ آسمانوں پر اٹھائے گئے۔حضرت مسیح علیہ اسلام کو مصلوب مقتول مانتا موت سے بچ کر طبعی موت سے فوت ہو چکے ہیں۔قرآن مجید کی تمیس نص قرآنى وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوہ کے صریح خلاف ہے اور حضرت آیات میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کا ذکر کیا گیا ہے۔حضرت مسیح مسیح علیہ السلام کو زنده بجده العنصری آسمانوں پر بٹھانا آیات قرآنیہ موعود علیہ الصلوة والسلام تحریر فرماتے ہیں:- دا) يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَلِيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى (٣) وَمَا تم یقین سمجھو کہ عیسی ابن مریم فوت ہو گیا ہے۔اور کشمیر مُحَمَّد إِلَّا رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (۳) فلما سرینگر محلہ خانیاز میں اس کی قبر ہے۔خدا تعالے نے اپنی کتاب لويْتَنِي كُنتَ أنتَ الرقیب علیکم کے صریح خلاف ہے۔عزیز میں اس کے مرجانے کی خبردی ہے۔رکشتی نوح مثا) بھائیوں کا عقیدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وکم (۳) مقام محمدیت کے بارے میں بہاء اللہ کے اس قول سے گویا بہائیوں کے ہر دو عقیدے قرآن مجید کے دو سے غلط ہیں۔واقعہ بھی یہی ہے کہ نہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر جیم سمیت زندہ بیٹھے ہیں۔اور نہ ہی وہ یہودیوں کے ہاتھوں مصلوب و مقتول ہوئے تھے۔بلکہ وہ ظاہر ہے۔ھذا یوم لوا درکه محمد رسول الله تعال صلیبی موت سے بچ کر کافی عرصہ تک اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے کے بعد لقد عرفناك يا مقصود المرسلین، که اگر آن محمد رسول الله