بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 29 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 29

۵۵ ۵۴ آئے تھے۔دنیاء الله وقصر جدید ص۲) گویا قرآن مجید نے سخت کئے میں عقیدہ کو کفر قرار دیا تھا۔اہل بہار نے اسے صاف طور پر حق اور درست ٹھرایا ہے۔قرآن مجید تو عیسائیوں کے عقیدہ انیت پر اظہا زنان اختگی کرتے ہوئے اسے کفر قرار دیتا ہے مگر بہائی صاحبان اس بارہ میں عیسائیوں کے موقف کو بالکل صحیح رویہ قرار دیتے ہیں۔اور بہاء اللہ کی آمد کو اسی طرح انسانی شکل لاينا في اذعانهم بوحدانية الله تعالى وفرد انيته رامج البيتة مصنف ابو الفضائل صلا پس بہائیوں اور عیسائیوں کی توحید ایک ہی رنگ کی ہے بہاء اللہ کے متعلق بہائی عقیدہ الفاظ ذیل سے ظاہر ہے : حضرت بہاء اللہ کی کتابوں میں یہ کلام و عیشا ایک مقام سے دوسرے مقام میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ابھی تو ایک انسان کلام میں خدا کی آمد مانتے ہیں۔جس طرح عیسائی مانتے چلے آئے میں یہی وجہ ہے کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ابھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا کہ جناب عبر البہاء نے صاف طور پر فرما دیا ہے : واقع ہو کہ مسیحیت کے اصول اور حضرت بہاء اللہ کے احکام بالکل ایک سے نہیں اور ان کے طریقے بھی ایک سے ہیں : ریاد اللہ اور عصر جدید ملا ) خود کلام کر رہا ہے۔مقام بشریت سے کلام فرماتے ہوئے بھی بہاء اللہ اس طرح کلام فرماتے ہیں جس طرح خدا کا فرستادہ کلام کر ہے۔اور لوگوں کو رضائے الہی کے سامنے کامل تسلیم کا زندہ نمونہ بن کر گویا بہائیت اسی قسم کی توحید کو پیش کرتی ہے اور اسی طرح اپنے دکھائے۔آپ کی تمام زندگی روح القدس سے بھر پور تھی۔بانی کو انسانی جامہ میں اللہ ٹھراتی ہے جس طرح نصاری حضرت سیح اس لئے آپ کی زندگی اور تعلیمات میں بشری والی عناصر علیہ السلام کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں۔گویا بہائیت کی پیش کردہ توحید کے درمیان کوئی صاف خط نہیں کھینچا جا سکتا ہے بعینہ عیسائیت کی پیش کردہ تو خیر ہے اسی لئے ابو الفضل بھائی لکھتے ہیں :- خلاصة القول ان تعدد الألهة عند ربہاء اللہ اور عصر جدید من جب تسلیم کر لیا گیا کہ بہاء اللہ کی زندگی اور تعلیمات میں بشری اور الٹی خناصر میں کوئی درمیانی خطا نہیں کھینچا جا سکتا تویقینا یہی وہ عقیدہ ہے مجھے الوثنيين لا ينا في العانهم بوحدة ذات عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق اختیار کئے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے الله تعالى كما ان تعدد الاقانيم عند النصارى کہ بہائی مبلغ مرزا حیدر علی صاحب صاف طور پر لکھتے ہیں :۔