بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 103
٢٠٣ ۲۰۲ کوئی نسبت ہی نہیں۔ہماری یہ رائے مبالغہ یا خوش اعتقادی پرمبنی نہیں۔بلکہ فلسطين من الحريم السید محی الدین احصنی اور السید رشدی افندی کی معیت ٹھوس تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ہمارا دھوئی ہے کہ بہاء اللہ کے بیٹے بھی اس ہیں نتیجہ میں جناب مرزا محمد علی صاحب سے ماتھا تو انہوں نے کہا تھا کہ میں تو حقیقت سے آگاہ تھے اور وہ اپنے عمل سے اس کا اظہار کرتے رہے ہیں۔الاسلام کے مطابق پانچ ہی نمازیں پڑھا کرتا ہوں۔چنانچہ مرزا محمد علی و غیرہ کے متعلق بہائی تاریخ میں لکھا ہے :- درمیان سے ائر مل چنین شهرت دادند که پدر با داعیه بالاستقلال اظهار نفر بوده و تشریع شریعتے ننموده بلکہ یکے از اولیا، واقطاب بوده و متابعت شرع اسلام بوده اما برادر یا عباس انندی فن تازه پیش گرفته و شرعی جدید تأسیس نمود : والكواكب فارسی جلد ۲ ماس ) ترجمہ - فرزندانِ بہاء اللہ مرزا محمد علی وغیرہ نے سب اہل ذاہب کے اندر شہور کر دیا ہے کہ ہمارے باپ نے مستقل مدعی ہونے کا دخونی نہیں کیا اور نہ ہی اس نے نئی شریعت بنائی ہے ییکه وه تو دلیا را در اقطاب میں سے تھا۔وہ ہمیشہ اسلامی شریعیت کی پیروی کرتا رہا۔مگر ہمارے بھائی عباس افندی نے نیا ڈھونگ رچا دیا ہے اور شریعیت جدیدہ کی بنیاد رکھدی ہے۔اس سے ثابت ہے کہ عباس افندی کے علاوہ باقی سب بیٹے بہاء اللہ کو شریعت اسلامی کا تابع ظاہر کرتے تھے اور کتنے تھے کہ انہوں نے کوئی نئی شریعیت نہیں بنائی جس کا مطلب اضح ہے کہ ان کے نزدیک اقدس" اس قابل نہ تھی کہ اسے قرآن مجید کے مقابل پر رکھا جا سکے۔مجھے یاد ہے کہ جب میں اپنے دوران قیام باقی رہے جناب عبد البهاء عباس افندی سو انہوں نے شملہ میری ہیں رای حکم و یکرہ کہ القدس کی اشاعت جائز نہیں رجواب نامر جمعیت لاهای مشب بتا دیا کہ ان کا دل بھی مانتا ہے کہ یہ مجموعہ اس قابل نہیں کہ اسے قرآن پاک کے مقابل رکھا جا سکے۔حضرات بہائی شریعیت میں حصوں پرمنقسم ہے۔اول وہ امور جین کا تعلق ابتدائی تہذیب سے ہے اور جن پر دنیا کا ہر جھدار انسان پیشتر ازیں ہی عمل کر رہا ہے۔مثلاً یہ کہ ناخن آثار نے چاہئیں یا کرسی دچار پائی پر بیٹھے سے آرام حاصل ہوتا ہے۔نہانا چاہیئے۔کپڑے صاف ہونے چاہئیں خیرہ اس قسم کے امور کی تفصیلات میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ہاں اتنا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اس پہلو سے بھی بھائی شریعت ناقص ہے۔اور جو جدت بھی اس لحاظ سے اختیار کی گئی ہے ناپسندیدہ اور بھونڈی ہے۔اس مجموعہ شریعت اقدس پر مجموعی نظر ڈالنے والا ہر انسان اس کا اندازہ کرسکتا ہے دوم۔وہ باتیں جو جناب بہاء اللہ نے لفظ اور معناً قرآن مجید سے نقل کی ہیں۔ان میں بہاء اللہ نے اپنی عقل سے جو ترمیم یا تبدیلی کی ہے اس نے ان باتوں کی مشکل منع کر دی ہے ان میں سے ایک اہم بات یہ ہے کہ