بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 104
۲۰۵ て بہاء اللہ نے صفات باری تعالیٰ کو بے موقع اور بے محل استعمال کیا ہے۔مضمون کلام اور مذکورہ صفت الہی میں بسا اوقات کوئی تناسب موجود نہیں جس کا اندازہ ہر صاحب ذوق انسان خود کر سکتا ہے۔عبارہ میں صاف تقبلا رہی ہیں کہ محض قرآن مجید سے اختلاف کی خاطر ان میں تبدیلی کی گئی ہے۔سوم۔تیسرا حصہ وہ ہے جو خالص طور پر بہائی شریعیت کا امتیازی حصہ ہے اس میں صرف چند احکام شامل ہیں :۔ہر شہ حصص میں پھر ایک رنگ بہائیت کا موجود ہے اس لئے میرے نزدیک بھائی شریعت کے موازنہ کا بہترین طریق یہ ہے کہ ذیل میں ہم بہائی عبد البہاء اس کی تشریح میں بیان کرتے ہیں :- دین ابدا در امور سیاسی علاقه و مدخلی ندارد زیرا دین تعلق بارواح و و بعدان دارد که خطابات جلد امکا که دین کا سیاسی امور میں قطعا دخل نہیں دین کا صرف روح اور وجدان سے واسطہ ہے کہ گویا بہائی شریعت اصول حکمرانی اور قانون سیاست و تدبیر مملکت کے قواعد سے سراسر عاری ہے۔کیا کامل دین کی یہی شان ہوا کرتی ہے ؟ اس کے مقابل پر قرآن مجید ملکی سیاست اور قانون حکمرانی کے واضح شریعت کی ان خصوصیات کو ذکر کر دیں جو ان تینوں اقسام سے تعلق ہیں۔اصول بیان کرتا ہے۔ان پر سرسری نظر سے ہی اس خود ساختہ شریعت کا حسن و قبح پرکھا جا سکتا ہے۔(۲) دوسری خصوصیت بھائی شریعت میں سب چیزوں کو پاک قرار اس جگہ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جبکہ ابھی کے بہائیوں کی شرعیت دیدیا گیا ہے (ملاحظہ ہو انڈس ۱۶-۱۶۲) جاری نہیں، ان کا بیت العدل قائم نہیں ہے۔سو سال کے قریب گذر چکا اسلئے بھائی شریعت میں سور کی حرمت کی تصریح نہیں ہے۔علی محمد باب نے ہے۔ابھی نا معلوم کب تک یہ شریعت بہائیوں کی طرف سے شائع نہ ہوگی۔تمہا کو نوشی کو حرام قرار دیا تھار الرسالة التسع عشریہ ملنا مگر بہاء اللہ بتایا جائے کہ اس عرصہ میں کونسی شریعت پر عمل ہے ؟ نے خود میرا کو نوشی کی ہے۔غرض بہاء اللہ نے متذکرہ الصدر اصل کی بناء بھائی شریعت کے مطابق امور سیاسیہ سے مذہب پر بہائی شریعت کا حلت و حرمت ماکولات میں بھی کوئی دخل نہیں ہے۔را پہلی خصوصیات امام کی تعلیق نہیں۔لہندا سیاست یا تدبیر ملکی چنانچہ جناب عبدالہاد کے بیان سے اس کی تشریح ہو گئی ہے۔لکھا ہے۔کے متعلق بہائی شریعت کوئی قانون بیان نہیں کرتی۔بہاء اللہ لکھتے ہیں :۔تالله لا نريد ان نتصرف في ممالككم بل جئنا التصرف المقلوب (اقدس ) دوستان شرب عرض کردند درخته این غذا با حبار امریکه و دستور العمل عنایت شود۔فرمودند ما بداخله در طاهر جسمانی ره آینا نے کنیم، مداخله با در طعام در نانو است کا