بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 102
۲۰۰ معارف حقائق اس کی لاثانی روحانی اخلاقی۔عمدگی اور سیما تھی لیات کے قول کے مطابق اراد ان يجعل كتابة سجعا منافسًـ للقرآن الشريف " بہاء اللہ کی نیت یہ تھی کہ قرآن مجید کے اس کے فوق العادت اثرات و ثمرات ، خرص ہر پہلو سے ہر زمانہ میں لاجواب رہا ہے اور رہتی دنیا تک کا جو اب رہے گا۔وہ ایک مقابلہ پر اس کتاب کو لکھے۔اس اقدس" کی عربی عبارت نہایت پھپھی ہے۔اور متعدد مقامات پر بالکل غلط ہے۔اگر چہ جناب بہاء اللہ نے زندہ قانون اور ہمہ گیر شریعت ہے۔قرآن مجید کے چیلنج کو باطل ثابت کرنے کے لئے ہر زمانہ میں ناکام قرآن مجید کی نقل کرنے کی کوشش کی ہے مگر وہ نقل اتارنے میں بھی سراسر کوششیں ہوتی رہی ہیں۔مسیلمہ کذاب سے لے کر بہاء اللہ تک لوگ ناکام رہے ہیں۔جہاں بھی انہوں نے الفاظ میں تبدیلی کی ہے وہاں ہی انکی اپنے اپنے وقت میں خدا کے چاند پر تھوکنے کا ارادہ کرتے رہے ہیں۔تولید گی عریاں ہو گئی ہے۔بطور نمونہ چند عبارتیں درج ذیل ہیں:۔(1) انه كان على كل شي حكيمًا ( ) اور آفتاب قرآنی کے نور کو اپنی پھونکوں سے سمجھانے کی سعی کرنا اپنے کا طریق رہا ہے۔مگر خدا کا یہ آفتاب ہمیشہ روشن رہا اور روشن ر قل يا قومان لن تؤمنوا به لا تعترضوا عليه (٣) رہے گا۔اور اس کے دشمن ناکام و نامراد مرتے رہے اور مرتے رہیں گے م كذلك سمى لدى العرش ان انتقم من العارفين (٣٣٤) يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نور اللهِ بِأَفْوَاهِهِم والله متم رم ان في ذلك لحكم ومصالح (ع) ورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔جناب بہار اللہ کی خود ساختہ شریعت جیسے انہوں نے اور ان کے (۵) انه كان على ما اقول عليها را اس قسم کی سقیم تراکیب اقدس میں بکثرت میں مسیلمہ کذاب نے جو اتباع نے بھیجا طور پر اقدس کا نام دے رکھا ہے۔ہم نے پوری کی عربی قرآن مجید کے مقابل لکھی تھی۔جناب بہار اللہ کی عربی سے تو وہ بھی یہ کیا پوری اپنی کتاب بہائی تحریک پر تبصرہ کی فصل چہارم میں شائع کردی اچھی تھی۔ضیاء عرب کی عربی سے تو جناب بہاد اللہ کی غربی کو کچھ نیت ہی نہیں ہے۔ساتھ ہی اس کا سلیس اردو ترجمہ بھی کر دیا ہے۔احباب ساری زبان کے علاوہ حقائق و معارف اور اخلاقی دروحانی تعلیمات و خیره کے لحاظ سے بھی اس مجموعہ کو قرآن پاک کے سامنے رکھنا انسانی عقل و فہم کی بھائی شریعت وہاں مطالعہ فرما سکتے ہیں۔ہم نے سہولت کے لئے اس ن است ولی جناب بہاء اللہ اقدس کی آیات کو نمبروں کے کر دیا دی میں مرتب کیا تھے اور عیسائی مختلف مواد کی الیاس ا اب نئے انداز میں کھائی شریعت اور اس پر شہر کے نام سے دوبارہ شائع اسے اور مکتبہ الفرقان ربوہ سے دو رد ہے میں ملا توہین ہے۔معزز سامعین با نم اور یہ ذکر کر چکے ہیں کہ اقدس کو قرآن مجید سے