بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 84
۱۶۵ ۱۲۴ كل شي پر نازل ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وما فرطنا في الكتب من شیء کہ ہم نے اس قرآن میں ہر چیز بیان کردی ہے۔پھر اللہ تعالٰی نے سورۂ یوسف میں ما كان حديثاً يفترى۔۔۔۔۔الخ فرمایا۔ان آیات سے صراحتاً ثابت ہوتا ہے کہ دیانت اللہ اور شریعت نبویہ کے تمام اصول، تمام فروع، ہر قسم کے محبت و بربان، ہر چیز کے مقصد را در انجام کو قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے پوری تفصیل سے بیان کر دیا ہے اور اس کا کھلے بندوں اس قرآن مجید اور کتاب عزیز و حمید میں اعلان کر دیا ہے۔یہاں تک کہ قرآن مجید کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اہوا ء نفس اس میں کبھی پیدا نہیں کر سکتی اور علماء اس سے کبھی میر نہیں ہوتے۔جو شخص اس قرآن کو چھوڑتا ہے خدا اُسے ہلاک کرے گا اور جو قرآن کے علاوہ کسی اور کتاب میں ہدایت طلب کرتا ہے خدا اسے گمراہ ٹھر آئیگا یہ حاضرین کرام ! خدا را فرمائیے کہ ایسی پاک کتاب کو جس کے متعلق بہائی مبلغ کے یہ عقائد نہیں اگر دائمی شریعت نہ مانا جائے تو اور کیسے مانا جائیگا کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی اتمام حجت ہو سکتی ہے ؟ (11) وَانزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبُ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا يمابين يَدَيْهِ مِنَ الكِتُبِ وَمُهيمنا عَلَيْهِ - رمانده ۳۰۲ ترجمہ :۔ہم نے قائم رہنے والی تعلیم پرمشتمل کتاب تجھے پر نازل کی ہے۔اس حال میں کہ وہ کتاب کتب سابقہ کی مصدق ہے اور ان پر نگران ہے۔این آیت میں اللہ تعالٰی نے قرآن پاک کو باقی کتابوں کے لئے مھیمن قرار دیا ہے۔جیمین اللہ تعالٰی کی بھی صفت ہے۔جس کے معنے نگران اور محافظ کے ہیں۔قرآن کے سوا اور کسی کتاب کا نام مہین نہیں رکھا گیا۔جب قرآن مجید باقی جملہ کتابوں کا مہین قرار پایا۔تو اس کے محفوظ ور دائمی شریعت ہونے میں کیا کلام ہو سکتا ہے ؟ ا وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانَا لِكُلِّ شَى وَهُدًى وَرَحْمَةٌ وَبُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ۔(النحل : ٨٩ ترجمہ : ہم نے تجھ پر دی شریعت پر ضروری حکم کو بیان کرنے کے لئے اور ہدایت و رحمت نیز مسلمانوں کے لئے بشارت بنا کر نازل کی ہے۔جب قرآن کریم تمام انسانی ضروریات کو بیان کو نیوالا ہے۔تو وہ جامع قانون اور مکمل شریعت قرار پائے گا۔اور یہی اس کے دائمی تربیت چونے پر ایک واضح دلیل ہے کہ اس نے کوئی قابل ذکر چیز ترک نہیں کی۔اب اگر نئی شریعت آئے گی تو تبا یا جائے کہ وہ کیا بیان کرے گی ؟