بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 85
142 144 (۱۲) ولقد صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ وكان الإِنسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَعَلاه الكهف : ۵۴) ترجمہ :۔ہم نے اس قرآن میں تمام لوگوں کے لئے ہرضروری تعلیم بوضاحت بیان کر دی ہے۔لیکن بعض انسان بہت جھگڑتے ہیں۔یہ آیت بتا رہی ہے کہ قرآن کریم کی جامعیت اور اس کی تعلیم پر محض کم فہم انسان ہی جدل اختیار کریں گے۔ورنہ خدا ترس لوگ تو اس کی بہترین تعلیم کی وجہ سے اس پر فدا ہوں گے اور کہیں گے ہے جمال و حسن قرآن نور جان ہر مسلمان ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآن ہے (۱۳) وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُل مَثَلٍ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ تُوْانَا عربيا غَيْرَ ذِي عِوَمٍ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ۔(الزمر: ۲۴-۲۵) ترجمہ :۔ہم نے اس قرآن میں ہر قسم کی عمدہ تعلیم اور سب دلائل بیان کر دیئے ہیں تا لوگ نصیحت حاصل کریں۔ہم نے ر این قرآن کو فصیح زبان والا اور ایسا بنایا ہے کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کبھی نہیں ہے تا کہ لوگ تقوی حاصل کریں۔اس آیت کر عید میں چلینج کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی کبھی اور پڑھا پن نہیں۔وہ کامل تعلیم پوشتمل اور ہر قسم کی لفظی و معنوی خوبی پر حاوی ہے۔اس لئے تقویٰ کا تقاضا یہی ہے کہ قرآن مجید کو کامل اور دائی شریعت تسلیم کیا جائے۔(۱۳) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالذِكرِ لَمَّا جَاءَهُمْ وَ إِنَّهُ لَكِتَابَ عَزِيزُهُ لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حمیده وفصلت :۴۱-۲۲) ترجمہ۔جن لوگوں نے اس ذکر کا انکار کر دیا، جب وہ انکے پاس آیا د و سخت گراہی میں ہیں، یقینا قرآن وہ غالب کتاب ہے کہ باطل اس میں نہ آگے سے اور نپیچھے سے راہ پاسکتا ہے۔وہ حکیم وحید (خدا) کا نازل کردہ کلام ہے۔عربی زبان میں عزیز غالب کو کہتے ہیں، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے۔العزة : حالة مانعة للانسان من ان يغلب (المفردات) پس قرآن کریم کو جب عزیز کیا گیا اور دوسری کسی کتاب کے لئے یہ لفظ نہیں آیا۔تو ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم کسی باطل کے سامنے مغلوب نہیں ہو سکتا۔اور نہ ہی اسے منسوخ ٹھرایا جا سکتا ہے۔(ها) إِنَّهُ لَقَولُ فَضْلُ : وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ۔الطارق : ۱۳ - ۱۴)