بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 83
147 ۱۶۲ اب غور کرنے والے دل غور کریں کہ یہ کیا بات ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک کی غیر معمولی حفاظت کی ہے۔اس نے لاکھوں حفاظ کے سینوں میں اس کتاب کو محفوظ کر دیا۔اور اس کے معانی کی حفاظت کے لئے اس نے امت محمدیہ میں مجددین کا مستقبل مسلسلہ جاری کر دیا۔کیا خدا تعالٰی کی یہ قولی اور فعلی شہادت اس بات کو کھلے طور پر ثابت نہیں کر رہی کہ فی الواقع قرآن کریم مکمل اور دائمی شریعت ہے اسی لئے فرمایا گیا۔انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ المحفظون اور اسی لئے اس کی غیر معمولی حفاظت کی گئی۔(9) ما كان حديثا يُفتَرَى وَلَكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بين يديهِ وَنَفَصِيلُ كُلَّ شَيْ ءٍ وَهُدًى وَ رحمة لقوم يؤْمِنُونَ (یوسف: 111) ترجمہ : یہ قرآن مجید کوئی خود ساختہ کتاب نہیں بلکہ یہ پل تمام کتابوں کے مصدقہ ہے اور اس میں ہر قسم کی تفصیل موجود ہے۔اس میں اہل ایمان کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔اس آیت میں قرآن مجید کو جامع، کامل اور انسانوں کی سب ضرورتوں کو پورا کرنے والی شریعت قرار دیا گیا ہے۔جو اس کے دائمی شریعت ہونے پر والے شہادت ہے۔ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس جگہ اس آیت کی تفسیریں بھائی مبلغ ابو الفضل صاحب کا اعتراف بھی درج کر دیں۔تا اگر بھائی صاحبان ہماری بات نہ پائیں تو کم از کم اپنے مبلغ کی تفسیر کو ہی مائیں۔0 ز سعدی شنو گر زمین نشنوی! جناب ابوالفضل صاحب لکھتے ہیں:۔وقد نزل في وصف القرأن الشريعت كما ذكرناه سابقاً ان فيه تبيان كل شي پد قال جل شانه اما فرطنا في الكتبِ مِنْ شَيْءٍ ) وقال جل وعلا في سورة يوسف ما كانَ حَدِينا يُفْتَرى وَلكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَنْمِيل كُلَّ شَيْ ءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ تُؤْمِنُونَ) وهذه الأيات مريحة في ان الله تعالى ما ترك شيئا تعلق بالديانة الالهية والشريعة النبوية اصول و فروعا وحجّةً وبرهانا ومصدر ومالا الاوفصله دبينه واظهره وأعلنه في هذا السفر المجيد والكتاب العزيز الحميد حتى قيل في وصفه انه لا تزيغ به الاهواء ولا يشبع منه العلماء ومن تركه قصمه الله ومن ابتغى المهدى في غيره أضله الله : والدرر البهيه نت ترجمہ قرآن کریم کی تعریف میں میں کہ ہم سے بیان کرچکے ہیں تعلیان