بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 28
۵۳ ۵۲ الفاظ ذیل موجود ہے۔ملكوت السماوات والارضین : الحاج مبار که حت یاد رہے کہ بہائی لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی ذہبی عقیدہ مقصود از ایسی قدیم و یا اصل قویم دیا بر محیط با توان متفقیت رکھتے ہیں جو عیسائیوں کا ان کے متعلق ہے۔جناب عبد البہاء فرماتے ہیں :- نوری انیه البیه است که موثر در وجود و محیط بر خواهم غیب و شهود است حضرت من اراده الله، روح ما سواه خداہ ازاں روئید و ازان بحر منشعب شده اند - ددیگران از اصیلی حادث که مقام ظاہری جم است روئیده و از جنبه نا سوتی خلق شده اند یا دی روس الدياثة مطبوعہ مصرف درس پنجاه و نهم) خود جناب بہاء اللہ نے اہل بیان کو خطاب کر کے کہا ہے :- قل يا ملأ البيان قد اتى مولى العباد في يوم الميعاد : (مجموعه اقدس منه) ترجمہ :۔اسے اہل جاہی تمام ہندوں کا خدا مقررہ دن ہیں آگیا ہے " انہوں نے اپنے آپ کو تمام انبیاء کا مقصود اور آسمان و زمین کا اللہ قرار دیتے ہوئے کھا ہے :- هذا يوم لواد رائے محمد رسول الله تقال قد مرفناك يا مقصود المرسلين ولو ادركه النايل ليضع وجهه على التراب خاضعا الله ربك ويقول قد اطمان تدبی یا الله من في حقیقت سیحیه که کلمة الله است البته من حيث الذات والصفات والشرف مقدم بر کائنات است۔ر مفاوضات منه پھر رسالہ بہاء اللہ اور عصر جدید میں لکھا ہے:۔حضرت عیسی ایک وسیلہ تھے اور نیسائیوں نے آپکے ظہور کو خدا کی آمد یقین کرتے میں بالکل صحیح رویہ اختیار کیا آپ کے چہرہ میں انہوں نے خدا کے چہرہ کو دیکھا۔اور آپ کے لبوں سے انہوں نے خدا کی آواز کوسنا۔حضرت بیل اللہ فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔کہ ربّ الافواج ابدی باپ دنیا کے بنانے اور بچانے والے کی آمد جو تمام انبیاء کے بیانات کے مطابق آخری ایام میں واقع ہونے والی ہے اس سے سوائے اس کے اور کچھ مراد نہیں کہ خدا انسانی شکل میں منصہ شہود پر ظاہر ہوگا۔جس طرح اس نے اپنے آپ کو پوچ ناصری کی ہیکل رحیم کے ذریعہ ظاہر کیا تھا۔اب وہ اس مکمل تر اور روشن تر ظہور کے ساتھ آیا ہے جس کیلئے سوچ اور تمام پہلے انبیاء لوگوں کے قلوب تیار کرنے