بہائیت کے متعلق پانچ مقالے

by Other Authors

Page 119 of 130

بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 119

۲۳۵ ۲۳۴ نے خود ہی کیوں نہ تجویز کردی؟ دوسرے اگر بالمغرض لوگ انگریزی بیان کر دیا ہے۔اس پر نظر تدیر ڈالنے سے معلوم ہو جاتا ہے۔کہ یہ زبان کو انتخاب کر لیں تو کیا اقدس کی عربی کو مٹا دیا جائے گا اور حرف سطحی اور ناقابل عمل باتوں کا مجموعہ ہے۔قر آن مجید اور اسلام کوئی بھائی اقدس کو اصل زبان میں لکھ اور پڑھ نہ سکے گا ؟ کی محکم شریعت سے بہائیوں کے ان احکام کو کوئی نسبت نہیں تیرے عجیب بات ہے کہ بہاء اللہ نے خود ایک زبان اختیار ہے۔ہر حال اقدس سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ انسان خلد میں آکر نہیں کی کبھی فارسی میں لکھتے ہیں اور کبھی عربی میں خواہ وہ کہاں سے کہاں تک ٹھوکریں کھاتا ہوا جا پہنچتا ہے۔غربی کس درجہ کی ہو۔اور کبھی غربی اور فارسی سے مخلوط زبان میں۔کیا اس عمل والے انسان کا یہ حق ہے کہ لوگوں کو ایک زبان کے بولنے میرے نزدیک بہائی شریعیت کا ایک حکم بھی ایسا نہیں ہے جو روحانی، اخلاقی اور تمدنی لحاظ سے اسلامی تعلیم یہ بہتر ہو۔اور لکھنے کے لئے انتخاب کا حکم دے؟ اگر یہ حکم استحاد کا ایسا ہی ذریعہ تھا مجھے آج تک کسی بھائی نے اپنی کتاب سے ایک بھی ایسی تعلیم نہیں دکھائی جو اپنی ذات میں اچھی ہو اور اسلام میں موجود نہ ہو۔یا تو بہاء اللہ کو عملاً اسے اختیار کرنا چاہیئے تھا۔اس نے تو خود مختلف نہ بانوں کے سیکھنے کی اجازت دی ہے (اقدس ۲۵ ) اندریں حالات کم از کم اُسے بہائی شریعت میں قرآن مجید کی نسبت بہتر اسلوب یہ حکم بھی محض زمانہ کی رو کا تبلیغ ہے۔السلام کہتا ہے کہ زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف خدا کا ایک اور احسن پیرایہ میں بیان کیا گیا ہو۔اب بھی تمہیں اہلِ بہار کو اس بارے میں کھلا چیلنج کرتا ہوں۔کیا کوئی بسائی اقدس میں سے نشان ہے (الروم : ۲۲) اس لیئے اپنے دائرہ کے اندر مضر نہیں۔ایک بھی ایسی تعلیم دکھا سکتا ہے جوردانی یا اخلاقی پہلو ہاں قرآن مجید نے عربی زبان کو اُم الالسنہ قرار دیا ہے نہیں کے منے یہ ہیں کہ عربی زبان مذہبی طور پر سب قوموں اور ملکوں کی زبان ہونی چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ نے عربی کے اختر الاستہ ہونے پر اپنی کتاب من الرحمن میں مبسوط بحث فرمائی ہے۔سے مفید ہو اور وہ قرآن کریم میں احسن ترین انداز میں موجود نہ ہو ؟ جب ایسا نہیں ہے تو بہاء اللہ کے اس مجموعے سے قرآن حکیم کو منسوخ کہنا سراسر غلط اور گناہ ہے فماذا بعد الحق الا الضلال حضرات ! قرآن مجید نے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے یہ علان فرمایا ہم نے ان جو میں خصوصیات کے من میں بہائی شریعت کا لب لباب ه وَلَا يَا تُونَكَ يَمَقَل الاجتنَاكَ بِالْحَقِّ وَ