بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 118
۲۳۲ بنانا منع ہے۔بہت سے لوگ دوسروں کو زبر دستی پکڑ کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔اس کے خلاف بہاء اللہ نے کوئی حکم نہیں دیا۔بھائی سمجھتے ہوں گے کہ بہاء اللہ نے دنیا کی کرو کو دیکھ کر غلامی کے انسداد کا معقول انتظام کر دیا ہے۔مگر یہ درست نہیں کیونکہ یہ ٹھوس قانون نہیں۔اس سے زیادہ سے زیادہ غلاموں کی فروخت منع ثابت ہو گی۔نیز بہاء اللہ نے دوسری طرف سود خواری کو حلال، طیب اور ظاہر ہے تاکہ زمین والے پوری خوشی و مسرت سے محبوب عالمیاں کے ذکر میں مشغول رہیں وہ جیسا چاہتا ہے حکم کرتا ہے۔اب اس نے شور کو حلال ٹھہرا دیا ہے جیسا کہ اس نے پہلے اسے حرام ٹھہرایا تھا۔راشراقات مس شود کے جواز کی صورت میں غلامی کے انسداد کا خونی فریب جائز قرار دے کر لاکھوں غرباء کے لئے غلاموں سے بد تر نہ ندگی نفس سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔اب گویا بہائیوں میں قرضہ حسنہ بسر کرنے کا قاعدہ بھی مقرر کہ دیا ہے۔بہاء اللہ لکھتے ہیں :۔میدادن قرض الحسن کمیاب است۔فضلاً على العباد یر با را مثل معاملات دیگر که ما بین ناس متداول است قرار فرمودیم یعنی ربح نقود ازین عین که این حکم بین است از سماه مشیت نازل شد حلال و طیب و طاہر است و تا اہل ارض بکمال روح و ریحان و فرح وانبساط یاد کر مجبوب عالمیان مشغول باشند۔انه يحكم كيف يشاء واحل الرباكما حرمه من قبل ترجمہ :۔چونکہ قرضہ حسنہ دینے کا طریق بہت کمیاب ہے۔اس لئے بندوں پر احسان کرتے ہوئے ہم نے سود کو دیگر معاملات جاریہ کی طرح قرار دے دیا ہے۔گویا اس حکم کے نازل ہونے کے وقت سے روپوں پر سود لینا کا طریق بالکل معدوم ہو جائے گا اور سود کا نام رواج ہو جائے گا۔ظاہر ہے کہ سود دینے والے مقروض غلاموں سے بدتر ہوتے ہیں۔پھر سُود خوری جنگوں کے پیدا کرنے اور لمبا کرنے کا باعث ہے۔پس شود نہ صرف افراد کی غلامی کا موجب ہے بلکہ قوموں کی غلامی اور تباہی کا موجب ہے ، اسے عجائز کر کے غلاموں کے بیچنے کو حرام کہنا کیا اثر پیدا کر سکتا ہے۔بہاء اللہ کی خود ساختہ شریعت (۲۴) چھ عیسوی خصوصیت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ و عملی نہیں۔اس لئے بہائی اسے پردہ اخفا میں رکھتے ہیں۔بہاء اللہ نے حکم دیا ہے کہ اہل مجالس کو چاہیے کہ مختلف زبانوں میں سے ایک زبان اور ایک رسم الخط انتخاب کر لیں را قدس ) اس جگہ اول تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ زبان جناب بہاء اللہ