بہائیت کے متعلق پانچ مقالے — Page 40
66 24 سمجھی گئی اور بہت سے بادی پیشین نادان فرزند ہو گئے تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس ونڈ کو پورا کیا جو فرمایا تھا وليمكن لهم دينهم الذى ارتضى لهم وليبة لنهم من بعد خوفهم امناء (الوصیت من) بہائیوں کے ہاں خلافت کے لئے بیٹوں اور نواسوں کو نامزد کیا جاتا ہے۔مگر ان کے ہاں آج تک کسی بیٹی یا تو اسی کو اس منصب کے لئے نامزد نہیں کیا گیا ہے نا اس طرح بہائیوں کی مرحومہ مساوات مرد و خورت کا عملی مظاہرہ ہو سکتا اور ن یہی ان کے ہاں خلفاء کا انتخاب اسلام کے طریق انتخاب کے مطابق ہوتا ہے جو اسلامی جمہوریت کا طغرائے امتیاز ہے۔سلسلہ احمدیہ میں خلافت انتخابی منصب ہے بیٹے اور نواسے کے لئے مخصوص نہیں ہے۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر منشاء میں ان کے پہلے خلیفہ حضرت مولانا نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقرر ہوئے تھے۔جو آپ کے اولین مرید تھے۔لیکن اس وقت کوئی رشتہ نہ رکھتے تھے۔قیامت کا قید و قیامت کا عقید قیامت کا عقیدہ اسلام کا ایک امتیازی عقیدہ ہے۔قیامت کبری مسلمانوں کی اصطلاح میں اس حشر اکبر کو کہتے ہیں۔جب دنیا کے خاتمہ کے بعد سب لوگ اپنے اعمال کی پوری جزاء کے لئے اللہ تعالے کے سامنے پیش ہوں گئے۔اسلامی عقیدہ کی رو سے لطیف رنگ میں مجموعی حشر اجساد کا نام قیامت کرنی ہے۔بہائی لوگ جناب عبد البہاء کی تعلیمات کے زیر اثر مشر اجساد کے منکر ہیں لکھا ہے۔بھائی تعلیمات کے مطابق بہشت جموں کی نہیں ہوگی جسم جب ایک دفعہ مر جاتا ہے تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔اس کا تجزیہ ہو جاتا ہے۔اور اس کے ذرات پھر کبھی بھی اس جسم میں جمع نہیں ہوتے رہاد اللہ اور عصر جدید ص ۲۶) ہم اس جگہ قیامت کبری کے متعلق امکانی اور عقلی بحث کو تنگی وقت کے ا تحت نظر انداز کرتے ہیں لیکن یہ ذکر کرنے سے رک نہیں سکتے کہ اہل بہا نے اس بارے میں جناب عبد البہاء کی تحریرات کے زیراثر جو غلط عقیدہ اختیار کر رکھا ہے وہ خود جناب بہاء اللہ کی صریح تخریبات کے خلاف ہے۔ہم اس جگہ ان کی تقریرات میں سے آٹھ نہایت واضح والے پیش کر نا ضروری مجھتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:- اتم اذكر الدنيا وما ترى فيها من شئوناتها و تغييرها و اختلانها، تالله الها تدعو فى كل الاحيان اهلها و تقول فاعتبروا یا اولی الابصار انها تذكر الناس وتخبرهم بقع الها وفنائها ولكن القوم في سكر عجاب - مجموعه اقدس ) ا ستفنى الأرض وما فيها وعليها ويبقى ما