اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 350

350 یہ درست نہیں۔کیونکہ اُن کا کلمہ کلمہ طیبہ تھا۔اور طیبہ کے معنے عربی زبان میں خوش شکل ، خوشبو دار لذیز اور شیریں کے ہیں۔طیبہ کے اور بھی معنے ہیں لیکن چاروں معنے خاص طور پر طیب میں پائے جاتے ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ جو چیز خوش شکل ہو خوشبودار بھی ہو۔انسانوں میں کئی ایسے ہوتے ہیں جن کی شکل اچھی ہوتی ہے مگر انہیں بغل گند ہوتا ہے اور کئی لوگوں سے بد بو تو نہیں آتی نگر شکل دیکھ کر کراہت آتی ہے۔پھر کئی ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کو کوئی بیماری تو نہیں ہوتی مگر وہ جاہل اور اُجڈ ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو خوبصورت بھی ہوتے ہیں، خوشبو بھی اُن میں سے آتی ہے، عالم بھی ہوتے ہیں مگر شیریں نہیں ہوتے یعنی ان کی باتوں میں مزہ نہیں آتا۔پس طیب وہ ہے جس میں چاروں باتیں پائی جائیں۔یعنی خوش شکل بھی ہو، خوشبودار بھی ہو، خوش ذائقہ بھی ہو اور شیر میں بھی ہو۔پس کلمہ طیبہ پر ایمان لانے والے کو سوچنا چاہیئے کہ کیا اس میں یہ چاروں باتیں پائی جاتی ہیں۔طیبہ کے پہلے معنے خوش شکل کے ہیں۔اب تم سوچو کہ کیا تمہارا ایمان خوش شکل ہے؟ تم منہ سے تو کہتی ہو کہ احمدی میں مگر کیا ظاہر میں بھی تمہاری شکل احمد یوں والی ہے؟ کیا اگر آم کی شکل بیر جیسی ہو تو لوگ اُسے پسند کریں گے؟ اسی طرح جب تک تمہاری نمازیں احمدیوں والی نہ ہوں ، تمہارے روزے احمدیوں والے نہ ہوں ، تمہاری ز کو ۃ احمد یوں والی نہ ہو۔تمہارا حج احمد یوں والا نہ ہو تم کس طرح کہہ سکتی ہو کہ ہم نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا۔کتنا ہی اچھا آم ہو لیکن اگر وہ داغدار ہو یا پچکا ہوا ہو تو لوگ اسے نہیں خریدتے۔اسی طرح اگر تم صرف اس بات پر خوش ہو جاؤ کہ ہم نے کلمہ طیبہ کہ لیا تو ہماری نمازیں ، ہمارے روزے، ہماری زکوۃ ، ہماراحج اور ہمارے صدقے خود بخود اچھے ہو جائیں گے تو یہ درست نہیں۔جس طرح داغدار آم کو کوئی شخص نہیں خرید تا اسی طرح تمہاری نمازیں اور تمہارے روزے بھی قبول نہیں ہو سکتے۔صرف اسی صورت میں یہ عبادتیں قبول ہو سکتی ہیں جب وہ انہی شرائط کے ساتھ ادا کی جائیں جن شرائط کے ساتھ ادا کرنے کا اسلام نے حکم دیا ہے۔دوسری چیز کلمہ کا خوشبودار ہوتا ہے۔جو چیز انسان خریدتا ہے اس کے متعلق یہ بھی دیکھ لیتا ہے کہ آیا اُس کی خوشبو اچھی ہے یا نہیں۔خربوزے ہوں تو ان کی خوشبو سونگھتا ہے اور چاہتا ہے کہ خربوزہ سے اچھی خوشبو آئے۔یہی حال باقی پچھلوں کا ہے۔آم جتنا اچھا ہو گا اُتنی ہی اس کی خوشبو اچھی ہو گی۔اسی طرح سیب ، انار ، انگور اور کیلا وغیرہ کی لوگ شکل بھی دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی خوشبو بھی سو نکھتے ہیں۔