اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 349

349 إِذَا جَاءَ كَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوْا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ الله وَاللَّهِ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُه ط وَالله يَشْهدَ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَذِبُونَ۔یعنی اے محمد ہے تیرے پاس منافق آتے ہیں اور کہتے ہیں نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ کہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ خدا موجود ہے اور تو اُس کا رسول ہے۔مگر اس پر بجائے اس کے خدا خوش ہو کہ آخر انہوں نے صداقت کا اقرار کر لیا فرماتا ہے کہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے۔وہ کہتے ہیں ہم بھی گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے۔اب اگر اللہ تعالی کہے اور وہ نہ کہیں تو جھوٹ ہے۔مگر جب انہوں نے بھی کہہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی گواہی دیدی کہ تو ہمارا رسول ہے تو پھر کہنا یہ چاہئے تھا کہ وہ بڑے بچے ہیں کہ انہوں نے وہ بات کہی جو خدا نے کہی۔مگر فرماتا ہے یہ منافق بڑے جھوٹے ہیں۔باوجود اس کے کہ تو اللہ کا رسول ہے اور باوجود اس کے کہ انہوں نے کہا کہ تو اُس کا رسول ہے پھر بھی جھوٹے ہیں اور اُن کا کلمہ طیبہ نہیں بلکہ کلمہ خبیثہ ہے۔کیونکہ وہ دل سے نہیں کہہ رہے بلکہ منافقت سے کہہ رہے ہیں۔پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو گو کچے دل سے ایمان لاتے ہیں مگر اُن کا ایمان ناقص ہوتا ہے۔اُن کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی شخص آم تو ہوئے مگر اسے پانی نہ دے اور نہ اُس کی نگرانی کر نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ہو گا تو آم ہی مگر پھل ناقص دے گا ، کھٹا دے گا اور تھوڑے دے گا۔ایسے درخت کے آموں کو گدھے بھی سونگھ کر پھینک دیتے ہیں اور جب بازار میں جاتے ہیں تو ردی کی ٹوکری میں پڑے رہتے ہیں اور کوئی اُن کو نہیں خریدتا۔اس کے مقابلہ میں اہلے قسم کے آموں کو کاغذ کا لباس پہنایا جاتا ہے اور اوپر لکھا جاتا ہے کہ فلاں قسم کا آم اور رئیسوں کے آرڈر پر آرڈر آتے ہیں اور بڑے بڑے امیر اُن کو خریدتے ہیں۔مگر باقص آم میلی اور گندی نوکری میں پڑے ہوتے ہیں اور پیسے پیسے ولی کہہ کر دکاندار آواز دے رہا ہوتا ہے اور پھر بھی انہیں کوئی نہیں خریدتا۔پھر ایک آم ایسا ہوتا ہے کہ پاس سے گزرنے پر سر سے لے کر پیر تک اُس کی خوشبو برقی رو کی طرح اثر کر جاتی ہے۔اور ایک آم ایسا ہوتا ہے کہ اُسے دیکھنے تک کو جی نہیں چاہتا۔یہی حال دوسرے پھلوں کا ہے۔ایک وقت خربوزے روپے روپے وٹی تک بکتے ہیں اور دوسرے وقت اُن میں کیڑے پڑے ہوئے ہوتے ہیں۔تو فرمایا تم ہمیشہ کلمہ کلمہ پکارتے ہو تمہیں سوچنا چاہیئے کہ کیا کلمہ پڑھتے ہو۔کلمہ طیبہ تو ابو بکڑ بھی پڑھتا تھا، عمر بھی پڑھتا تھا، عثمان بھی پڑھتا تھا پہلی بھی پڑھتا تھا۔اگر تم کہو کہ تم بھی وہی کلمہ پڑھتے ہو جو ابو بکر اور عمر پڑھتے تھے تو