اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 351

351 پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم ایمان لائے ہو تو تمہارے ایمان کے اندر خوشبو بھی ہونی چاہیئے۔یعنی تمہارے اردگرد کے ہمسائے تمہیں دیکھیں تو تمہاری نیکیوں کی خوشبو اُن کو آ جائے۔اور وہ کہہ اٹھیں کہ واقعی یہ مذہب اچھا ہے۔پہلے تو لوگ شکل دیکھیں گے کہ تمہاری نمازیں مسلمانوں والی ہیں یا نہیں۔فرض کرو ایک عورت احمدی کہلاتی ہے مگر نماز نہیں پڑھتی تو اُس کی ہمسایہ عورت کو یقین ہو جائیگا کہ ہمارا مولوی ٹھیک کہتا تھا کہ احمدی جماعت کی عورتیں نماز نہیں پڑھتیں یا احمدی نماز کو جائز ہی نہیں سمجھتے۔کیونکہ غیر احمدی مولویوں نے اُن کو یہی بتایا ہوتا ہے کہ احمدی کا نماز روزہ الگ ہے۔پس ایک غیر احمدی عورت نماز چھوڑ کر صرف اپنے لئے دوزخ مول لیتی ہے لیکن ایک احمدی عورت نماز نہ پڑھ کر صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اُن دوسری پچاس عورتوں کے لئے بھی دوزخ مول لیتی ہے جو اس کو دیکھتی ہیں۔تو فرمایا شجر وطنیہ بنو۔تم وہ درخت انو جو نہ صرف خوش شکل ہو بلکہ خوشبودار بھی ہو۔تم جس محلہ میں جاؤ وہاں نمازیں پڑھو، صدقات دو، خیرات کرو اور اس قدر نیکیوں میں حصہ لو کہ سب کہیں کہ معلوم نہیں کون آگئی ہے جو اس قدرنمازیں پڑھتی اور خیرات کرتی ہے۔پھر جب وہ تمہارے پاس آئیں گی تو تم دیکھو گی کہ وہ اپنے مولوی کو وہاں سے سینکڑوں گالیاں دیتی ہوئی اٹھیں گی کیونکہ تمہاری خوشبو ان کو احمدیت کے چمن کی طرف کھینچ رہی ہوگی۔پس چاہئے کہ تمہاری نماز میں ایسی خوشبودار ہوں۔صدقہ و خیرات ایسا خوشبودار ہو کہ خود بخود دوسرے لوگ متاثر ہوتے چلے جائیں۔جب تمہارے اندر یہ خوشبو پیدا ہو جائے گی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ بھاگ بھاگ کر تمہاری طرف آئیں گے اور تم لوگوں کو احمدیت کی طرف کھینچے کاذریعہ بن جاؤ گی۔طیبہ کے تیسرے معنے خوش ذائقہ کے ہیں ایسی چیز جس کا مزا اچھا ہو اور انسان کی زبان اس سے حلاوت محسوس کرے۔یہ چیز بھی ایسی ہے جس کا مومن میں پایا جانا ضروری ہے۔فرض کرو ایک عورت نمازیں بھی پڑھتی ہے، روزے بھی رکھتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی صبح شام غیبت میں مشغول رہتی ہے کہ فلاں نے یوں کیا اور فلاں نے یوں کیا۔تو اس سے اُس کی نیکی کا اثر زائل ہو جائے گا۔یہ باتیں ایسی ہی گندی ہیں جیسے بعض عورتیں مٹی کھانے لگ جاتی ہیں۔بے شک یہ باتیں ہیں مگر ایسی جن کی کوئی قیمت نہیں۔نہ سُننے والے کو کوئی فائدہ ہوتا ہے اور نہ سُنانے والے کو۔لیکن اگر وہ اس قسم کی باتیں کرے کہ اے بہن رسول کریم ﷺ نے یوں فرمایا ہے،اے بہن خدا کا یہ حکم ہے، نماز کے متعلق یہ حکم ہے ، روزوں کے یہ احکام ہیں تو سننے والے اس کا اثر