اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 344

344 یعنی مومنوں کو جنت ملے گی ہمیشہ رہنے والی۔اور فرشتوں نے دعا کی تھی وہ ہم نے سُن لی۔جو بڑے درجہ کے لوگ ہوں گے اُن کے ساتھ ہم چھوٹے درجہ کے مومنوں کو بھی جو اُن کے رشتہ دار ہوں گے رکھیں گے۔ان کے باپ دادے اور بیویاں سب کے سب اعلیٰ درجہ کے لوگ ہوں گے۔اور فرشتے ان خاندانوں کے پاس ہر روز دروازے سے آئیں گے اور کہیں گے کہ تمہارے رب نے تم کو سلام کہا ہے کیونکہ دُنیا میں تم نے خدا کے لئے تکالیف اٹھائیں۔اب مرنے کے بعد تم میری حفاظت میں آگئے ہو۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کی دعا قبول ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اعلیٰ درجہ کے مومن کے ساتھ اُس کے باپ، ماں، دادا، دادی ، اولا د اور بیوی سب رکھے جائیں گے۔اور جب خدا تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے تو عورت کے سب حقوق اس میں آگئے۔بے شک موسی نبی تھے اُن کی بیوی نہیں۔مگر جنت میں جو انعام موسے علیہ السلام کو ملے گا وہی اُن کی بیوی کو ملے گا۔اسی طرح سب سے بڑے نبی رسول کریم ﷺ تھے اور سب سے بڑا مقام بھی آپ کا ہی ہو گا مگر آپ کی گیارہ بیویاں بھی جنت میں آپ کے ساتھ ہی ہوں گی۔غرض اعمال اور افعال کے لحاظ سے مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں۔اور جہاں کوئی فرق ہے وہاں صلى الله JU بدلہ ان کو زیادہ دے دیا ہے۔اگر رسول کریم اے کی ایک بیوی ہوتی تو جنت میں وہ اکیلی آپ کے انعام میں شریک ہوتی مگر آپ کی گیارہ بیویاں تھیں اور تین بیٹیاں۔اس طرح چودہ عورتیں وہی انعامات حاصل کریں گی جو رسول کریم ﷺ کو حاصل ہوں گے۔پس یہ خیال اپنے دلوں سے نکال ڈالو کہ عورت کوئی کام نہیں کر سکتی۔میں آج کہنا چاہتا ہوں کہ اے احمدی عورتو! تم اپنی ذہنیت کو بدل ڈالو۔آدمی کے معنے مرد کے ہیں۔تم بھی ویسی ہی آدمی ہو جیسے مرد۔خدا نے جو عقیدے مردوں کے لئے مقرر کئے ہیں وہی عورتوں کے لئے مقرر کئے ہیں۔اور جو انعام اور افضال مردوں کے لئے مقرر ہیں وہی عورتوں کے لئے ہیں۔پھر جب خدا نے فرق نہیں کیا تو تم نے کیوں کیا۔جب تک تم یہ خیال اپنے دل سے نہ نکال دو گی کوئی کام نہیں کر سکو گی۔جب کوئی شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں مر گیا ہوں تو مر جاتا ہے۔اور جب کوئی شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کام کر سکتا ہوں تو وہ کر لیتا ہے۔جو ذمہ داریاں مردوں کی ہیں تو انہیں پورا کر رہے ہیں۔مردوں کی انجمنیں تو پنجاب میں ہر جگہ