اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 417

417 الله مکہ میں جب تکلیفیں حد سے بڑھ گئیں اور دشمن شرارتوں میں دن بدن بڑھتے جارہے تھے۔جب تکلیفیں برداشت سے باہر ہو گئیں تو رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو مشورہ دیا کہ وہ ایسے سینیا کی طرف ہجرت کر جائیں۔انہوں نے عرض کی یارسول اللہ آپ تو یہاں تکلیفوں میں رہیں اور ہم دوسرے ملک جا کر آرام سے زندگی بسر کریں۔آپ نے فرمایا ابھی میرے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کرنے کی اجازت نہیں آئی تم ہجرت کر جاؤ۔جب مجھے اللہ تعالے کی طرف سے اجازت مل جائے گی تو میں ہجرت کروں گا۔ان ہجرت کرنے والوں میں ایک عورت بھی تھی جو کہ اپنے خاوند کے ساتھ اونٹوں پر صبح سویرے سامان لدوار ہی تھی۔حضرت عمر اس وقت اسلام نہیں لائے تھے۔آپ پھرتے پھراتے اس رستہ سے گزرے۔آپ نے جب یہ نظارہ دیکھا تو آپ کی طبیعت پر اس نظارہ کا بہت گہرا اثر ہوا۔عربوں میں بے شک کفر تھا۔گناہ تھا لیکن وہ بہادر تھے اور کمزور اور ضعیف پر اُن کا ہاتھ نہ اُٹھتا تھا۔حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ صبح صبح ایک عورت مکہ کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنے والی ہے تو آپ نے رقت بھری آواز میں اُس عورت سے پوچھا۔بی بی ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم سفر کی تیاری کر رہی ہو۔اُس عورت نے کہا ہم نے یہاں سے چلے جانے کا ارادہ کیا ہے اب تمھاری تکلیفیں برداشت سے باہر ہو گئی ہیں آخر ہم نے تمھارا کیا قصور کیا ہے۔ہم یہی کہتے ہیں نا کہ اللہ تعالے ایک ہے لیکن تم ہمیں اس سے بھی روکتے ہو۔اس لئے ہم جارہے ہیں۔یہ بے بسی اور بے کسی کا منظر دیکھ کر سنگدل عمر جس کے دل میں مسلمانوں کے لئے ذرا تم نہ تھا اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور کہا۔اچھا بی بی تمھارا خدا حافظ۔یہ کہہ کر منہ پھیر لیا۔پس عورتوں نے وطن بھی چھوڑے۔ماریں بھی کھائیں اور موت کو بھی قبول کیا لیکن خدائے واحد کے نام کو چھپانا پسند نہ کیا۔یہ عورتیں بھی تمھارے جیسی عورتیں تھیں۔جس طرح تمھارے سینوں میں دل ہیں ان کے سینوں میں بھی دل تھے۔جس طرح تمھاری اولادیں ہیں اُن کی بھی اولاد میں تھیں لیکن خدا کے رستے میں انہوں نے ہر چیز قربان کر دی۔حضرت عمر کی بہن بھی عورت ہی تھیں جن کے ذریعے حضرت عمرؓ کو تبلیغ ہوئی۔حضرت عمرہ کے متعلق آتا ہے کہ آپ ہاتھ میں تلوار لے کر باہر نکلے۔کسی نے پوچھا کہ عمر کہاں جار ہے ہو؟ حضرت عمر نے کہا کہ محمد ( ) کو قتل کرنے جارہا ہوں۔اُس نے کہا کہ محمد (ﷺ) کو قتل کر کے