اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 418

418 تمھیں کیا ملے گا۔اگر تم اسے قتل کرو گے تو اس کا خاندان تمھیں اور تمھارے خاندان کو قتل کر دے گا۔اس لئے بہتر ہے کہ پہلے تم اپنے خاندان کی خبر لو تمھاری اپنی بہن مسلمان ہو چکی ہے تم دوسروں کو کیا کہتے ہو حضرت عمر یہ سن کر سیدھے اپنی بہن کے گھر کی طرف آئے۔جس وقت حضرت عمران کے گھر پر پہنچے اُس وقت ایک صحابی ان کی بہن کو اور بہنوئی کو قرآن مجید پڑھا رہے تھے۔حضرت عمرؓ نے دروازہ پر دستک دی آپ کی بہن اور بہنوئی نے اس صحابی کو چھپا دیا اور قرآن کریم کے پرچے بھی چھپادئے۔جب حضرت عمر اندر داخل ہوئے تو آپ نے اپنی بہن سے پوچھا کیا چیز تھی جو تم پڑھ رہے تھے۔انہوں نے کہا قرآن تھا۔حضرت عمر نے پو چھا تمھیں کون پڑھارہا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ آپ کو اس سے کیا تعلق۔پھر حضرت مڑنے پوچھا۔سنا ہے تم صابی ہو گئے اور یہ کہ کر اپنے بہنوئی کو مارنے کے لئے آگے بڑھے۔جب آپ نے ہاتھ اوپر اٹھا کر بازوؤں کو زور سے حرکت دی تو ان کی بیوی کو یہ دیکھ کر کہ ان کا خاوند اسلام لانے کی وجہ سے پٹنے لگا ہے جوش آ گیا اور وہ دوڑ کر حضرت عمر اور اپنے خاوند کے درمیان آکر کھڑی ہوگئیں اور کہا۔ہاں ہاں ہم مسلمان ہو گئے ہیں مارنا چاہتے ہو تو بے شک مارلو۔عمر کا ہاتھ بلند ہو چکا تھا اور زور سے گھوم کر نیچے کی طرف آ رہا تھا۔اب اس ہاتھ کو روکنا خود عمر کے اختیار میں بھی نہ تھا۔چنانچہ بازوزور سے جنبش کھا کر نیچے گرا۔اور حضرت عمرؓ کی بہن کے مُنہ پر اس زناٹے سے آکر لگا کہ کمرہ گونج گیا۔حضرت عمر کی بہن کے ناک سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔اور وہ عمر جو ابھی اپنے بہنوئی کو مار مار کر زمین پر لٹا دینے کے لئے تیار ہورہا تھا حیرت زدہ ہو کر اس نظارہ کو دیکھنے لگا۔دولاکھ ظالم تھا۔کافر تھا مگر عرب کے ایک شریف خاندان کا چشم و چراغ تھا۔اس کی حمیت اور اس کی بہادری کی عمارت متزلزل ہوگئی۔اچانک اپنے آپ کو ایک مجرم کی حیثیت میں کھڑا پایا۔اس نے ایک عورت پر ہاتھ اٹھایا تھا۔وہ اپنی بہن کے خون بہانے کا مجرم تھا جس کی حفاظت اس کا اولین فرض تھا۔اس گھبراہٹ میں عمر کو اس کے سوا اور کچھ نہ سوچھا۔نہایت مسکینی کے ساتھ اپنی بہن سے بولے۔بہن الا و وہ کلام جو تم لوگ سن رہے تھے میں بھی اسے پڑھونگا۔عمر کی بہن کے ایمان کا شعلہ اب بھڑک چکا تھا۔اب وہ عورت نہ تھی ایک شیرنی تھی اب عمر مرد نہ تھا ایک گیدڑ تھا جو شیر کے حملہ کا انتظار کر رہا ہو۔بہن نے کہا۔کیا تم قرآن کو ہاتھ لگا سکتے ہو۔تم جو پاک اور ناپاک میں فرق نہیں کر سکتے میں ہرگز تمھیں قرآن کریم کو ہاتھ لگانے دوں گی