اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 416

416 مثلا رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں مسلمانوں پر بہت مظالم ہوتے تھے اور مسلمانوں کو قسم قسم کے دیکھ دئے جاتے تھے۔ان مسلمانوں میں کچھ لوگ آزاد تھے اور کچھ غلام تھے۔جو لوگ غلام تھے اُن کو بہت زیادہ تکلیفیں دی جاتی تھیں اور وہ اکثر مصائب کا نشانہ بنے رہتے تھے لیکن آزاد مسلمانوں پر دشمنوں کا زور کم چلتا تھا اس لئے ان کو بہت زیادہ تکلیفیں نہ دے سکتے تھے۔ان غلاموں میں دومیاں بیوی بھی تھے ان کا مالک اس قسم کے ظلم اُن پر کرتا تھا کہ ان کو پڑھ کر انسان کا دل کا پہنے لگتا ہے۔ان کا مالک انہیں تپتی ہوئی ریت پر لنا دینا اور ان کی چھاتیوں پر چڑھ کر کودتا اور انہیں دھوپ میں ڈال دیتا۔ان کی آنکھیں سرخ ہو کر سوج جاتیں اور اُسے ذرا بھی رحم نہ آتا۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ ان کے پاس سے گزرے۔آپ نے دیکھا کہ ان پر سخت ظلم ہور ہے ہیں۔ان کے مالک نے میاں بیوی کو تپتی ہوئی ریت پر لٹایا ہوا تھا اور انہیں سخت دُکھ دے رہا تھا اور کہتا جا تا تھا کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کا انکار کرو اور کہو کہ خدا کے سوا اور معبود بھی ہیں۔جب ایک باپ اپنی اولاد کی یہ کیفیت دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہے تو رسول کریم ہے جو کہ ماں باپ سے زیادہ محبت کرنے والے تھے یہ تکلیف کب برداشت کر سکتے تھے۔آپ کو سخت تکلیف ہوئی۔آپ اُن کے پاس کھڑے ہو گئے اور شایدان کے لئے دعا کی اور خدا تعالے سے ان کے متعلق خبر پائی۔اس پر اُن سے مخاطب ہو کر فرمایا صبر کر و صبر کر واللہ تعالے تمھاری یہ تکلیفیں بہت جلد دور کرے گا اور تمھیں ان تکلیفوں سے نجات دے گا۔اس کے دو تین دن بعد وہ مرد تو ان تکالیف کو برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے اس جہان سے کوچ کر گیا اور اس عورت کو مالک نے نیزہ مار کر مار دیا۔صلى الله یہ لوگ غلام تھے آزاد خاندانوں میں سے نہ تھے۔اور غلاموں کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ ان کے ذہن بلند نہیں ہوتے۔ان کی عقل معمولی نوکروں سے بھی کم ہوتی ہے کیونکہ وہ نسلاً بعد نسل غلام چلے آتے ہیں لیکن رسول کریم ﷺ پر ایمان لے آنے کی وجہ سے وہ ایسے ذہین اور بلند حوصلہ ہو گئے کہ انہوں نے ہر قربانی کی مگر خدائے واحد کی توحید کا انکار نہ کیا۔انہی غلاموں میں سے حضرت بلال بھی تھے جن کو ان کا مالک شدید سے شدید تکلیفیں دیتا تھا مگر میں تمھیں عورتوں کی مثالیں بتانا چاہتا ہوں۔ایک مثال او پر بیان کر آیا ہوں اور عورتوں کی قربانی کا کچھ اور ذکر تمھارے سامنے کرتا ہوں۔