اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 371
371 لجنہ اماءاللہ کے جلسہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تقریر مرتب سیده مریم صدیقہ صاحبہ حرم حضرت خلیفتہ مسیح الثانی رضی اللہ عن) حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے ۲۰۔ماہ ہجرت ۱۳۲۳ ہش لجنہ اماءاللہ کے جلسہ میں جو تقریر فرمائی وہ درج ذیل کی جاتی ہے۔سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر مایا:۔دُنیا میں انسان کے لئے سب سے قیمتی جو ہر سنجیدگی ہے۔قرآن کریم نے اس کا نام اخلاص اور ایمان رکھا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ویل" للمُصَلِّینَ۔ایک طرف تو فرماتا ہے کہ نمازیں پڑھو مگر دوسری طرف نماز پڑھنے والوں کے لئے ہلاکت کا لفظ کہا ہے۔اس سے مراد وہی نماز ہے جس میں اخلاص نہ ہو۔نماز انسان اور خدا کے درمیان ملاقات کا ذریعہ ہے۔اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے نماز خدا کے حضور حقیقی نماز نہیں کہلا سکتی۔روزہ حقیقی روزہ نہیں کہلا سکتا اگر اخلاص نہ ہو۔اگر اخلاص ہے تو حج بھی ہے۔زکوۃ اور صدقہ بھی ہے۔اگر اخلاص نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ایک ایکٹر بادشاہ بنتا ہے تو لوگ اس سے نہیں ڈرتے۔لیکن ایک پندرہ ہیں گھماؤں کا چودھری آتا ہے تو لوگ اُس کی عزت کرتے ہیں کیونکہ اس میں اصلیت ہے۔ایک ایکڑ بڑا چور بنتا ہے تو لوگ اس سے نہیں ڈرتے کیونکہ اس کا چور ہونا ایک تماشہ ہوتا ہے لیکن ایک شخص معمولی چوری کرنے والا ہوتا ہے جو دو آنے چرا لیتا ہے تو لوگ اس کے آنے پر ڈرنے لگ جاتے ہیں کہ دیکھو چور آ گیا ہے ہوشیار رہنا لوگ تھیٹر میں جاتے ہیں اور وہاں ایک درزی دیکھتے ہیں جس کے پاس بڑے بڑے لارڈ وغیرہ کپڑے لے کے جاتے ہیں۔مگر دوسرے دن وہ اس کے پاس اپنا کپڑا نہیں لے جاتے بلکہ اپنے معمولی درزی کے پاس جس کی سلائی چار آنے ہوتی ہے اپنا کپڑ ا سلانے کے لئے لے جاتے ہیں۔کیونکہ وہ سچا درزی ہے اور اوّل الذکر جھوٹا۔اسی طرح ڈاکٹر کے بیٹے کے پاس لوگ نہیں جاتے حالانکہ بعض دفعہ وہ غرفاً ڈاکٹر کہلاتا ہے کیونکہ حقیقت میں ڈاکٹر نہیں۔اسی طرح لوگ معمولی عطار کے پاس جا کر علاج کرا لیتے ہیں مگر نا تک کے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے۔پس جب تم دنیاوی کاموں میں اتنی احتیاط کرتے ہو تو کیا تم کھتے ہو کہ خدا اپنے کاموں میں احتیاط