اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 372
372 نہیں کرتا۔اگر تم سو فی صدی احتیاط کرتے ہو تو خدا تعالیٰ دوسو فیصدی کرتا ہے۔اور جب تم اپنے آپ کو اس قدر عقلمند سمجھتے ہو تو کیا خدا تعالیٰ نعوذ بالله من ذالك اتنا بیوقوف ہے کہ وہ تمہاری بغیر اخلاص کے نماز قبول کرلے تمہارے کھوٹے سے کھوٹے روپے کو صدقہ کے طور پر قبول کر لے۔اصل چیز اخلاص ہے جب تک اخلاص پیدا نہ ہو جائے تب تک ترقی ممکن نہیں۔بڑی وقت یہی ہے کہ لوگ اخلاص سے بہت دُور ہیں۔عورتیں بالعموم لفاظی کو قبول کر لیتی ہیں۔عورتیں احمدی کہلاتی ہیں لیکن سب بُرائیاں ان میں پائی جاتی ہیں حا لانکہ عمل اور اخلاص کی ضرورت ہے جس کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔موجودہ حالت میں مردوں کے پاس اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ یا تو احمدی عورتیں اخلاص پیدا کریں یا پھر وہ ان کو چھوڑ دیں۔اس وقت تک ایک بھی مثال ہمارے پاس ایسی نہیں کہ مرد مرتد ہو اہوا اور عورت بچ گئی ہو۔مردوں کے ساتھ عورتیں بھی مرتد ہو جاتی ہیں۔جس کے یہ معنے ہیں کہ عورت کا اپنا کوئی ایمان نہیں۔اس کا ایمان اس کے خاوند کا ایمان تھا۔دس بیس میں سے کوئی ایک عورت تو ایسی ہوتی جس کے متعلق ہم کہہ سکتے کہ اس کا اپنا ایمان تھا۔ان کے ایمان اپنے ایمان نہیں بلکہ خاوندوں اور باپوں اور بیٹوں کے ایمان تھے۔دیگ ایک چاول سے پہچانی جاتی ہے یہ ایک نمونہ ہمارے سامنے ہے۔شاید خدا تعالیٰ نے بھی اسی لئے یہ ارتداد دو کھایا کہ عورتوں کے ایمان کا پتہ لگ جائے۔جب عبدالرحمن مصری مرتد ہوا تو میرا خیال تھا کہ اس کی بیوی شاید اس کے ساتھ مرتد نہ ہو۔میرے استاد کی وہ بنی تھی۔بڑے پختہ ایمان کی عورت معلوم ہوتی تھی لیکن آخر خاوند کے ساتھ وہ بھی مرتد ہوئی۔تو یہ باتیں بتاتی ہیں کہ جو اخلاص اور ایمان چاہیئے وہ ہماری عورتوں میں نہیں ہے اور اس کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔میں خصوصاًلجنہ کو خطاب کرتا ہوں۔ہر محلہ کی لجنہ اپنے آپ کو منظم کرے اور ایک ہفتہ کے اندر اندر سب جوان، بوڑھی عورتوں کو جمع کرکے ان کی تعداد معلوم کرے اور جبراً اُن کو لجنہ میں داخل کرے اور جو داخل نہ ہو اُس کے متعلق سمجھ لو کہ وہ احمدی نہیں ہے۔پہلے لجنہ کا ایک ہی اجلاس ہوتا تھا جس میں سب ممبرات شامل ہوتی تھیں۔مگر ستی طاری ہوتی گئی اور محلہ وار کام شروع ہوا۔اب صرف چندہ لینے تک کام محدود رہ گیا۔کئی سال سے کوئی رپورٹ میرے پاس نہیں آئی اس لئے میں یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں کہ کام ہوتا ہی نہیں۔میں نے اس لئے آج تم کو جمع کیا ہے کہ