اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 331

331 تھا اور کوئی وجہ نہ تھی کہ اُن کو شامل نہ کیا جاتا۔قادیان کی لجنہ کو اس لئے خصوصیت حاصل نہیں کہ وہ ایک ممتاز لجنہ ہے بلکہ اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ وہ مرکزی لجنہ ہے۔اگر وہ اپنے نام کے ساتھ صرف قادیان کا نام نہ لکھتیں تو دوسروں کے حوصلے وسیع ہو جاتے اور رتمام لجنات کی طرف سے مشترکہ ایڈریس ہو جاتا۔اس کے بعد میں جماعت کی مستورات کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اپنے اپنے مقام پر بنات قائم کرنی چاہئیں اور کام کرنے والی عورتیں اس میں داخل کرنی چاہئیں۔جس طرح دماغ بات نہیں کر سکتا اسی طرح جب تک ہاتھ نہ ہوں انسان کوئی کام نہیں کر سکتا۔اگر کسی جگہ آگ لگ جائے اور ایک لنگڑا آدمی وہاں ہو تو اُس کا دماغ فورا یہ فیصلہ کر دے گا کہ بھاگ جا۔لیکن اس کے پاؤں جواب دے رہے ہوں گے اور باوجود دماغ کے فیصلہ کے وہ بھاگ نہیں سکے گا۔اسی طرح اگر ایک عورت کا بچہ گڑھے میں گر جائے تو باوجود اس کے کہ عورت کا دماغ کہے گا کہ اسے نکال۔اگر اُس کے ہاتھ نہیں تو وہ نکال نہیں سکے گی۔بجنات بھی نظام سلسلہ میں بازو کی حیثیت رکھتی ہیں اور ضروری ہے کہ تمام مقامات پر ان کا قیام کیا جائے۔پس اپنی اپنی جگہ لبنات قائم کرو اور اپنی اخلاقی تعلیمی اور دینی تربیت کا سامان کرو۔اس وقت تک صرف ۲۵ لبنات قائم ہیں حالانکہ مردوں کی ساڑھے سات سو انجمنیں ہیں۔تمہیں چاہیئے کہ اس ستی کو دور کر واور ہر جگہ لجنہ اماء اللہ قائم کرنے کی کوشش کرو۔ایک انگریز نومسلم خاتون کا تہنیت نامہ حضور کی تقریر بھی جاری تھی کہ انگلستان کی احمدی خواتین کی نمائندہ انگریز نومسلم خاتون محترمہ سلیمہ صاحبہ تشریف لائیں۔حضور نے از راہ کرم اپنی تقریر کو بند کرتے ہوئے انہیں اپنا ایڈریس پیش کرنے کا موقع دیا۔چنانچہ خاتون موصوفہ نے اپنا ایڈریس انگریزی زبان میں حضور کی خدمت میں پیش کیا اور حضور نے انگریزی ہی میں اُس کا موزوں جواب دیا۔بعد ازاں فرمایا :۔یہ ہماری نومسلمہ بہن ہے جس کا نام سلیمہ ہے۔انگلستان کی رہنے والی ہیں۔ان کی تار مجھے صبح ملی تھی کہ وہ آرہی ہیں اور انہیں اپنا ایڈریس سنانا ہے۔دس بجے آنے کا خیال تھا لیکن وقت پر نہ پہنچ سکیں۔تم نے دیکھا ہے کہ کس خوبصورتی کے ساتھ انہوں نے بسم اللہ پڑھی ہے۔تم میں سے بہت کم ہونگی جو اس رنگ میں صحیح بسم اللہ پڑھ سکتی ہوں۔انگریز لوگ عربی نہیں پڑھ سکتے۔پھر یہ کیسے افسوس کی بات ہے کہ عیسائی