اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 332
332 عورت تو اس خوبصورتی سے پڑھے اور تم اس ملک کی ہو کر بسم اللہ صبح نہ پڑھ سکو۔یہ چند باتیں بطور نصیحت میں نے مختصر بیان کر دی ہیں۔کیونکہ آج اس قسم کی مصروفیت ہے کہ میرے لئے لمبی تقریر کرنا مشکل ہے۔دوسرے مردوں میں جو تقریر ہوتی ہے وہ بھی چونکہ لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ عورتیں سُن سکتی ہیں اس لئے بظاہر کسی علیحدہ تقریر کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن چونکہ رسول کریم نے کبھی کبھی عورتوں میں تقریر فرمایا کرتے تھے اس لئے باجود لاؤڈ سپیکر کے میں نے اس سلسلہ کو جاری رکھا۔اسی سنت کے ماتحت میں آج بھی ایک مختصر سی تقریر کر دینا چاہتا ہوں۔اس کے بعد حضور نے مستقل تقریرفرمائی جو درج ذیل کی جاتی ہے۔تشہد تعوذ کے بعد حضور نے حسب ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت کی :۔وَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُونَ الرُّوْرَ وَإِذَ مَرُّوْ ابِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَاماً ، وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِايَتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمَّا وَعُمْيَانًا وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَاسِنُ أَزْوَجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًاهُ أَوْلَئِكَ يُجْزَوْنَ الْغُرْفَةُ بِمَا صَبَرُوا وَيُلْقُونَ فِيهَا تَحَيَّةٌ وَسَلَمًا هِ خَلِدِينَ فِيهَا ط حَسُنَتْ مُسْتَقَرٌّ أَو مُقَاماً ه قُلْ مَا يَعْبَوابِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ ج فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ يَكُونَ لِزَامًاه (الفرقان ۶ ع٤) اس کے بعد فر مایا:۔بعض مرضیں بعض قوموں میں زیادہ ہوتی ہیں۔مثلاً ہمارے ملک میں سینکڑوں خون ہر سال ہو جاتے ہیں ذرا غصہ آیا مرد نے گنڈاسا اُٹھایا اور دوسرے کا سرکاٹ دیا۔کسی جگہ زمین کا جھگڑا ہوگیا یا شادی بیاہ یالین دین کے معاملہ میں اختلاف ہو گیا تو قتل کر دیا۔یہ بات عورتوں میں بہت کم ہے۔اگر سارے سال میں سینکڑوں مرد پھانسی پاتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں عورت صرف ایک ہوگئی۔مگر بعض ایسی باتیں ہیں جو عورتوں میں زیادہ ہوتی ہیں۔جس طرح مردوں میں قتل و خونریزی زیادہ ہے اسی طرح عورتوں میں جھوٹ زیادہ ہے اور جہاں مرد گنڈ ا سالئے پھرتا ہے وہاں عورت زبان سے قتل عام کرتی پھرتی ہے اس لئے رسول کریم نے بیعت لیتے وقت عورتوں سے یہ عہد لیا کرتے تھے کہ ہم جھوٹے اتہام نہیں باندھیں گی۔معلوم ہوتا ہے عرب عورتوں میں اتہام لگانے کی عام عادت تھی پھر جھوٹ بولنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو بھی اس کی