اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 330

330 مرضی اُس کے متعلق ضروری ہوتی ہے۔حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ خاوند کو یا بھائی کو یا باپ کو مذہب کے معاملہ میں عورت پر کسی قسم کا تصرف حاصل ہے۔ہر عورت کو حق ہے کہ جب دین کی کوئی بات سمجھ میں آجائے تو اس پر عمل کرے خواہ سب اس کے مخالف ہوں۔وہ یہ عذر نہیں کر سکتی کہ میرے باپ یا بھائی یا خاوند نے اجازت نہیں دی۔خدا کہے گا کہ صداقت کے معاملہ میں میں نے تجھے کسی کے ماتحت نہیں رکھا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کا تعلق دماغ سے رکھا ہے اور دماغ میں جو کچھ ہوتا ہے اُس کا دوسرے کو علم نہیں ہوتا۔اب تم اتنی عورتیں یہاں بیٹھی ہو ممکن ہے کسی عورت کا بچہ شور مچارہا ہو اور تم اپنے دل میں یہ کہہ رہی ہو کہ کیسی نالائق ہے اس نے لیکچر خراب کر دیا مگر وہ تمہارے ان خیالات سے بالکل ناواقف ہوگی۔تو دماغ کو اللہ تعالیٰ نے ایک مخفی خزانہ کی صورت میں بنایا ہے جس کے اوپر نہ بادشاہ کوحکومت حاصل ہے نہ باپ یا بیٹے یا استاد کو۔گو یا خدا تعالیٰ نے تمہیں یہ ایک ایسا صندوق دیا ہے جس میں تم اپنے ضروری راز رکھ سکتی ہو۔اگر تم کسی کو دس سال بھی اپنے پاس رکھو تو اس کو پتہ نہیں لگے گا کہ تمہارے اس صندوق میں کیا ہے جب تک تم خود شد بتلاؤ کہ میرے دماغ میں کیا ہے۔وہ تمہارا ذاتی ٹرتک ہے۔اگر تم کوئی راز کسی کو جتلانا چاہتی ہوتو کنجی لگا کر کھول لیتی ہو اور جو نہیں بتلانا چاہتی کنجی نہیں لگاتیں۔پس خدا تعالیٰ نے ہر ایک کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس خزانہ کو محفوظ رکھے یہ ہر ایک کا ذاتی ٹرنک ہے جس میں کسی کو اگر کوئی شریک کرنا چاہتا ہے تو اس کا دروازہ کھول دیتا ہے اور اگر شریک نہیں کرنا چاہتا تو اس کو نہیں کھولتا۔پس اللہ تعالی نے دماغ کی کبھی تمہارے ہاتھ میں دی ہے اور سچائی کے معاملے میں نہ تو مرد کو اس پر حق حاصل ہے نہ بھائی کو۔ہزار ہا عورتیں ایسی ہیں جو سچائی کے کھلنے پر بھی نہیں مانتیں اور ایمان کو محض باپ یا ماں یا خاوند وغیرہ کے ڈر کی وجہ سے حاصل نہیں کر سکتیں۔آنحضرت ﷺ کے پاس ایک دفعہ ایک عورت آئی اور اُس نے کہا یا رسول اللہ! میرا خاوند صدقہ دینے سے منع کرتا ہے کیا میں پوشیدہ طور پر صدقہ دیدیا کروں؟ آپ نے فرمایا۔ہاں۔گویا ان معاملات میں عورت کو حق دیا گیا ہے کہ وہ خاوند کے مال سے بغیر دریافت کئے خرچ کر سکتی ہے۔پس ان حقوق کو جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دئے ہیں۔یادرکھو اور اس کے احسانات کی قدر کرو تا کہ تمہاری ترقی ہو۔الله اب میں ایڈریس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اس میں ایک غلطی کی گئی ہے۔اور وہ یہ کہ صرف قادیان کی لجنہ کا حق نہیں تھا کہ وہ انفرادی رنگ میں اپنی طرف سے ایڈریس پیش کر دیتی بلکہ باہر کی لجنات کا بھی حق