اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 329
329 تو تم کبھی غلامی کی زنجیروں میں نہ جکڑی جاتیں۔پس یہ قرآنی تعلیم ہے اور اس پر عمل کرنا اور دوسروں سے کرانا ہر مومن کا فرض ہے کسی کا احسان نہیں۔اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اس معاملہ میں ہماری طرف سے کوئی کوتا ہی نہیں ہو سکتی۔اور جب تک کوئی خدا تعالیٰ کو ماننے والا ہے عورتوں کی ترقی و تنظیم کے لئے اس کی طرف سے ضرور کوششیں جاری رہیں گی کیونکہ اگر وہ کوتاہی کرے تو وہ تمہارا گنہگار نہیں بلکہ خدا کا گنہگار ہوگا۔لیکن اس وقت عورتوں کا ایک حصہ بعض ایسے حقوق طلب کرنے لگ گیا ہے جو قرآن کے خلاف ہیں۔مثلا یہ کہ عورتیں پارلیمنٹ کی ممبر بنیں ، گھوڑے کی سواری کریں، ظاہر ہے کہ ایسی عورت بچوں کی تربیت نہیں کر سکتی یہی وجہ ہے کہ یورپ میں ماں کی گود تربیت کا موجب نہیں ہے بلکہ اس کے لئے نرسنگ ہوم مقرر میں جہاں بچے بھیج دئے جاتے ہیں۔دائیاں دودھ پلاتی اور کھلاتی ہیں۔جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو بورڈنگ میں داخل کر دیئے جاتے ہیں کیونکہ مائیں ناچ گانے میں لگی رہتی ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے انسانی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔جس طرح ڈاکٹر اور وکیل دونوں اپنی اپنی جگہ مفید کام کرتے ہیں اسی طرح عورتیں اپنی جگہ کام کر رہی ہیں اور مرد اپنی جگہ۔اور مرد اور عورت دونوں کے کاموں کے دائرے الگ الگ ہیں۔لیکن اگر یہ اصول رائج کیا جائے کہ سب لوگوں کو وکیل ہونا چاہیئے یا ساری دنیاڈاکٹر ہونی چاہیئے یا سارے ہی لو ہار یا ترکھان ہونے چاہئیں تو دنیا کا کارخانہ تباہ ہو جائے۔برابری کے یہ معنے نہیں کہ عورت اور مرد دونوں ایک کام کریں بلکہ یہ ہیں کہ قومی طور پر دونوں پر یکساں طور پر ذمہ داریاں عائد ہیں۔چنانچہ دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے عورت پر یہ کتنی بڑی ذمہ داری عائد کی ہوئی ہے کہ ایک طرف وہ لڑکے کی تربیت کرتی ہے اور دوسری طرف لڑکی کی۔گویا ایک طرح سارے زمانہ کو اُس کی غلامی میں دیدیا جاتا ہے۔اسی حقیقت کو رسول کریم نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ عورت کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔اسی طرح مرد کو کہا گیا کہ فلاں بات تم عورت سے منوا سکتے ہو اور فلاں نہیں۔مثلاً اپنے مال میں وہ بالکل آزاد ہے۔عجیب بات ہے کہ یورپ جو آج شور مچا رہا ہے کہ اس نے عورت کی عزت اور آزادی قائم کی وہاں بھی عورت کے حقوق صرف بیس سال سے رائج ہوئے لیکن اسلام نے ساڑھے تیرہ سو سال سے عورت کے حقوق کو قائم کیا ہوا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عورتیں نہ تو یورپ کی آزادی اختیار کریں اور نہ جہالت میں گرفتار ہیں۔مثلاً بعض عورتیں کہہ دیا کرتی ہیں کہ مذہب خدا کی مرضی کا نام ہے۔اور جب خدا کی مرضی سمجھ میں آجائے تو خاوند کی