اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 328

328 کے ان گراں مایہ احسانات کا ذکر کیا گیا جو حضور نے طبقہ نسواں پر فرمائے ہیں۔حضور نے تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ایڈریس کے جواب میں مندرجہ ذیل تقریر فرمائی:۔لجنہ اماءاللہ قادیان کی طرف سے جو ایڈریس اس وقت پڑھا گیا ہے میں پہلے تو اس کے متعلق انہیں جزاكم الله احسن الجزاء کہتا ہوں پھر انہیں یقین دلاتا ہوں کہ طبقہ نسواں کی اصلاح کا کام ہرگز کسی شخص کا احسان نہیں بلکہ یہ ایک فرض ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کے رسولوں اور اُن کے جانشینوں کے کندھوں پر عائد کیا جاتا ہے۔پس جو فرض میں خدا تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے ادا کرتا ہوں وہ کوئی احسان نہیں بلکہ اپنی عاقبت کے لئے میں ایک ذخیرہ جمع کرتا ہوں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں اور مرد سب کے سب ایک ہی مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور وہ مقصد خدا تعالیٰ کے قرب کا حصول ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ سب مرد اور عورتیں مل کر اُس کے حضور پاک دل اور نیک ارادہ لے کر آئیں اور خدا تعالیٰ کے قرب میں وہ اعلے اسے اعلے اور جے حاصل کریں۔سارا قرآن اسی سے بھرا پڑا ہے۔چنانچہ جہاں جنت کا ذکر ہے وہاں مردوں اور عورتوں کو اکٹھا شامل کر لیا گیا ہے۔گو احکام میں مردوں اور عورتوں کا اکٹھا کر نہیں بلکہ مردوں کے ذکر میں ہی عورتوں کو شامل کر لیا گیا ہے اور در حقیقت قرآن حکیم ہی وہ واحد اور کامل کتاب ہے جس نے عورتوں کے حقوق قائم کئے۔اس سے پہلے نہ موسیٰ کی کتاب میں ان تمام حقوق کا ذکر تھا، نہ میسی کی تعلیمات میں یہ تمام باتیں پائی جاتی تھیں ، نہ حضرت نوح، حضرت ابراھیم اور دیگر انبیاء نے ان امور کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔صرف قرآن کریم ہی ہے جس نے دنیا کو بتلایا کہ عورت بھی ویسی ہی ترقی کی تڑپ اپنے اندر رکھتی ہے جس طرح مرد اور ویسی ہی اُمنگیں، ویسے ہی جذبات اور ویسی ہی قربانی کی روح اور ارادے رکھتی ہے جس طرح مر در کھتے ہیں۔وہ قرآن کریم ہی ہے جس کے ذریعہ پہلی دفعہ دُنیا میں یہ آواز بلند ہوئی کہ وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ اے مردو! جو عورتوں کے حقوق تلف کرتے آئے ہو اب ہم اعلان کرتے ہیں کہ جس طرح تمہارے بعض حقوق عورتوں پر ہیں اسی طرح عورتوں کے بعض حقوق تم پر ہیں۔ویسے ہی اختیارات حاصل ہیں جس طرح مردوں کو تو آج دنیا اس تعلیم سے بے بہرہ نہ رہتی اور نہ ذلت میں پھنستی۔اس کی ذمہ داری تم پر ہے اگر تم نے اپنے بیٹوں کو یہ تعلیم دی ہوتی کہ عورتوں کے حقوق شریعت اسلامیہ نے قائم کئے ہوئے ہیں جنہیں تو ڑنا شدید ترین گناہ ہے