اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 24
24 کہ کیا پڑھتی ہوں گی۔ایسی عورتوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ وہ انہی کے طور پر کھڑی نہیں ہوتیں بلکہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑی ہوتی ہیں اور نماز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور فروتنی دکھائی جائے اور خدا تعالی سے اپنی حاجتوں کے پورا ہونے کی درخواست کی جائے۔کیا جس سے کچھ مانگنا ہو اُس کے سامنے اسی طرح کیا جاتا ہے؟ نہیں بلکہ اُس کا تو بڑا ادب اور لحاظ کیا جاتا ہے، اُس کی منت خوشامد کی جاتی ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ وہ خدا تعالی کے حضور کھڑی تو کچھ مانگنے کے لئے ہوتی ہیں لیکن اُن کی حرکات میں ادب نہیں ہوتا ، اُن کے دل میں خوف نہیں پیدا ہوتا ، وہ عاجزی اور فروتنی نہیں دکھاتیں بلکہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ اُن کا محتاج ہے حالانکہ اللہ تعالی کسی کا محتاج نہیں ہم سب اُس کے محتاج ہیں اس لئے ہمیں خاص طور پر ادب کرنا چاہئے ، اس کے خوف کو دل میں جگہ دینی چاہیئے اور نہایت عاجزی اور خاکساری سے اُس کے آگے عرض کرنی چاہیئے۔کئی ایک مرد ایسے ہیں جو ایسا نہیں کرتے لیکن عورتیں تو کثرت سے ایسی ہیں جو نماز کو ایک مصیبت سمجھتی اور جتنی جلدی ہو سکے گلے سے اتارنا چاہتی ہیں۔حالانکہ نماز انہی کے فائدے کے لئے ہے نہ کہ خدا تعالی کو کوئی فائدہ ہے۔پس نماز نہایت عمدگی کے ساتھ ادا کرنی چاہیئے۔زکوۃ دینا اس کے علاوہ دوسرا حکم زکوة کا ہے کہ اگر کسی کے پاس ۵۲ تولے چاندی یا ۳۰ روپے سال بھر تک جمع رہیں تو ان پر ایک روپیہ زکوۃ دے جو مسکینوں، یتیموں اور غریبوں کے لئے ضروری ہے اور جہاں نماز کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں زکوۃ کے حکم سے بندوں کا حق ادا کرنے کی تاکید ہے۔۔خدا تعالیٰ خود بھی براہ راست اپنے بندوں کو سب کچھ دے سکتا ہے لیکن اس نے آپ دینے کی بجائے بندوں کے ذریعہ دینا چاہا ہے تا کہ دینے والے بھی ثواب اور اجر کے مستحق ہوں۔روزہ رکھنا تیرا حکم روزہ رکھنا ہے۔ہمارے ملک میں بعض مرد اور عورتیں نماز نہیں پڑھتے مگر روز در رکھتے ہیں۔یہ بھی ضروری حکم ہے اور اس میں بڑے بڑے فوائد ہیں۔حج کرنا چوتھا حکم حج کا ہے اگر سفر کرنے کے لئے مال ہو، راستہ میں کوئی خطرہ نہ ہو ، بال بچوں کی نگرانی اور حفاظت کا سامان ہو سکتا ہوتو زندگی میں ایک دفعہ حج کرنے کا حکم ہے۔خدمات دین یہ بڑے بڑے حکم ہیں جو ہر مومن مرد اور عورت کے لئے ضروری ہیں۔ان کے علاوہ اور بہت سی دینی خدمتیں ہیں جو کی جاسکتی ہیں۔اور میں نے بتایا ہے کہ آنحضرت اللہ کے وقت اور آپ کے بعد