اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 23
23 گی شرک ہے اور بھی کئی قسم کے شرک ہیں جن میں آجکل عورتیں خاص طور پر مبتلا ہیں حالانکہ یہ ایک خطرناک بات ہے۔پس عورتوں کے لئے ایک سب سے ضروری عقیدہ یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو ایک سمجھیں اور نہ کسی کو اُس کی صفات میں نہ افعال میں نہ اسماء میں شریک قرار دیں۔فرشتوں پر ایمان لانا دوسرا عقیدہ یہ ہے کہ فرشتوں پر یقین رکھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جو انسانوں کے دلوں میں نیک تحریکیں کرتی ہے اور اُن پر ایمان لانے کے یہ معنے ہیں کہ جب کوئی دل میں نیک خیال تحریک ہو تو فوراً اس پر عمل کیا جائے تا کہ اور تحریک کے لئے جگہ خالی ہو۔قرآن کو خدا کی کتاب سمجھنا اور سب رسولوں پر ایمان لانا تیسرا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن کریم پر ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کے سوا اور بھی کتابیں نازل ہوئی تھیں۔چوتھے یہ کہ سارے رسولوں پر ایمان ہو کہ وہ بچے ہیں۔بعث بعد الموت پانچویں یہ کہ مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا اور حساب و کتاب ہوگا۔ان عقائد کو نہ ماننے سے کوئی مرد و عورت مسلمان نہیں کہلا سکتا اس لئے اُن پر ایمان رکھنا بہت ضروری ہے۔یہ تو ہوئے عقائد۔اب میں اعمال کا ذکر کرتا ہوں جو اسلام نے ضروری قرار دیئے ہیں۔نماز پڑھنا اول نماز ہے جس کا ادا کرنا نہایت ضروری ہے مگر اس میں نہایت سستی کی جاتی ہے اور خاص کر عورتیں بہت سُست نظر آتی ہیں کئی قسم کے عذر پیش کیا کرتی ہیں۔مثلاً یہ کہ میں بچہ والی جو ہوئی کپڑے کس طرح سے پاک رکھوں کہ نماز پڑھوں لیکن کیا کپڑے پاک رکھنا کوئی ایسی مشکل بات ہے جو ہو ہی نہیں سکتی۔ایسی تو نہیں ہے۔اگر احتیاط کی جائے تو کپڑے پاک رہ سکتے ہیں لیکن اگر احتیاط نہیں کی جاسکتی تو کیا یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ایک جوڑا ایسا بنا لیا جائے جو صرف نماز پڑھنے کے وقت پہن لیا جائے اور اگر کوئی عورت ایسی ہی غریب ہے کہ دوسرا جوڑا نہیں بنا سکتی تو اسے بھی نماز معاف نہیں ہے وہ پلید کپڑوں میں ہی پڑھ لے۔اوّل تو انسانیت چاہتی ہے کہ انسان پاک وصاف رہے اسلئے اگر کپڑا نا پاک ہو جائے تو اُسے صاف کر لینا چاہیئے لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ کوئی ایسی صورت ہے جس میں صاف نہیں کیا جا سکتا تو بھی نماز چھوٹ نہیں سکتی مگر بہت کم عورتیں ہیں جو پڑھتی ہیں اور جو پڑھتی ہیں وہ بھی عجیب طرح پڑھتی ہیں۔کھڑے ہوتے ہی رکوع میں چلی جاتی ہیں اور کھڑے ہوئے بغیر ہی بیٹھ جاتی ہیں اور اس جلدی سے ایسا کرتی ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا