اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 252

252 نہ کیجیئے بے چون و چرا ہمارے ہاتھ اپنے آپ کو دے دیکھیئے بادشاہ بہت بڑا ہے اس کے حکم کی تعمیل میں ایران چلئے اسی میں آپ کا بھلا ہے۔آپ نے فرمایا کہ کل اس کا جواب دوں گا، دوسرے دن آپ نے ان سے فرمایا۔سنو! آج رات میرے خدا نے تمھارے خدا کو مار دیا ہے۔جاؤ واپس۔انہوں نے واپس جا کرسن وعن گورنر کو کہہ دیا۔گورنر حیران ہو گیا وہ ایران کی ڈاک کا منتظر رہا یہاں تک کہ وہی اطلاع اس کو پہنچی کہ خود اس کے بیٹے نے اس کے قتل کر دیا ہے اور اسی رات جس رات آپ نے فرمایا تھا خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ہمارا باپ بڑا ظالم تھا ہم نے اس کو مار دیا ہے اب ہم خود بادشاہ ہیں۔ہمارے باپ نے از راہ ظلم عرب کے ایک شخص کو قتل کا حکم دیا ہے اب چونکہ وہ مار دیا گیا ہم اس کے حکم کو منسوخ کرتے ہیں۔تو اب دیکھو بادشاہت دنیا میں کوئی چیز نہیں۔اصل مقصود تو یہ ہے کہ خطروں سے محفوظ ہو جائیں اور خطروں سے وہی محفوظ ہو سکتے ہیں جو خدا کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں خدا کی صفات پر ایمان لاتے اور دعاؤں سے اس کی مد کو پاتے ہیں۔ہاں تو یا درکھو کہ خدا سنتا ہے مگر قاعدے سے قانون قدرت کے مطابق۔کیا دیوار پر آٹا دے مارنے سے روٹی پک سکتی ہے؟ بلکہ روٹی اس قاعدے سے بچے گی جو قواعد اس کے لئے بنائے ہیں۔پس دعا بھی اسی قاعدے سے قبول ہوگی جو اس کے لئے مقرر ہے۔اب میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالے تمہیں سمجھنے کی توفیق دے۔آمین۔از مصباح ۱۵- جنوری ۱۹۳۱ء) احمدی خواتین کا فریضئہ وقت آج سے پچاس سال قبل اگر ہندوستان کی اہلے خاندان کی ایک مسلمان عورت کو کہا جا تا کہ برقعہ پہین کر اسٹیشن پر چلی جاؤ تو وہ کبھی یہ بات نہ مان سکتی تھی۔وہ ڈولی میں جاتی، پھر پر دو تان کر گاڑی میں اسے داخل کیا جاتا جس کی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں اور منزل پر پہنچ کر پھر اسی طرح اسے اتارا جاتا۔اس وقت سے یہ خیال آ سکتا تھا کہ اس حالت میں کبھی تغیر ہو جائے گا مگر آج دیکھو ہزاروں میل سے ایک وبا آتی ہے اور اس کے ماتحت وہ ہندوستانی عورتیں جن کی نانیاں اور دادیاں ڈولی میں اپنے گھر میں آئیں اور پھر وہاں سے ان کے تابوت نکلے آج بے تکلفی سے مردوں کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے سڑکوں پر پھر رہی ہیں۔اس وقت ہندوستانی مسلمان خیال کرتے تھے کہ ہم بالکل محفوظ ہیں کیونکہ اپنی رسوم اور رواج کو چھوڑ نے کا کوئی خیال