اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 251

251 دنیاوی بادشاہ کو بھی نہیں ہو سکتا۔وجہ یہ کہ دنیاوی بادشاہ کا بھروسہ اسباب مادی پر ہوتا ہے مگر خدا کے فرستادہ کا چونکہ خدا کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے پس وہ اپنے اس حامی کی حمایت میں ہر طرح بے فکر رہتا ہے۔گو اس کے پاس مادی اسباب کی قلت ہو بلکہ نہ ہونے کے برابر۔مگر اس کی مسرت اور اس کے اطمینان کو کوئی نہیں پاسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے پاس کونسی سلطنت یا طاقت تھی۔مگر آپ مصائب اور شدا نکر زمانہ سے بے فکر تھے۔زار روس جو ایک نہایت بلند بادشاہ تھا اُس کے متعلق آپ نے پیشگوئی فرمائی کہ وہ نہایت بے کسی کی حالت میں تباہ ہو گا۔پھر اسی طرح ہوا۔اب شہنشاہ زار کی پہلی قوت دیکھو پھر اس پیشگوئی کے بعد اس کی بے کسی۔پس معلوم ہوا کہ بادشاہوں کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی۔وہ بالکل مُردہ بدست زندہ کی مثال ہیں مگر خدا کے پیارے ہر طرح با اقتدار۔ایک ولی بزرگ کا واقعہ ہے جو دہلی میں رہتے تھے بادشاہ وقت ان سے ناراض ہو گیا۔کہیں دہلی سے باہر گیا ہوا تھا۔دشمن نے کوئی چغلی لگائی اور بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ دہلی پہنچتے ہی اس بزرگ کو سزائے موت دوں گا لوگوں نے آپ سے کہا کہ آپ بادشاہ کے آنے سے پہلے ہی یہاں سے کہیں چلے جائیں یا معافی مانگیں مگر آپ خاموش رہے یہاں تک کہ بادشاہ دہلی کے قریب پہنچ گیا۔خبریں آتی تھیں کہ بادشاہان بزرگ پر غضب ناک ہو رہا ہے او آتے ہی عبرت ناک سزا دے گا۔خیر خواہوں نے پھر وہی مشورہ دیا مگر آپ نے کہا ، آنے دو ہوا کیا آخر بادشاہ ہے خدا تو نہیں ، یہاں تک کہ سنا گیا کہ کل صبح بادشاہ کی سواری شہر میں داخل ہوگی۔بادشاہ آب دہلی کے بہت نزدیک ہے مگر ان بزرگ نے بڑے اطمینان سے فرمایا ، ہنوز دتی دو راست، سننے والے حیران تھے کہ بادشاہ چند لمحوں میں آیا چاہتا ہے یہ دلی دور بتاتے ہیں مگر اُسی رات کو بادشاہ قولنج سے مر گیا اور اسے دتی میں داخل ہونا نصیب ہی نہ ہوا۔آنحضرت ﷺ کے متعلق واقعہ ہے کہ دنیوی حالت نہایت غربت میں تھی ہاں ظاہری حالت بے بسی کی سی مگر باوجود اس ظاہری بے سرو سامانی کے ایران کے بادشاہ کے پاس آپ کی نبوت اور ترقی کی رپوٹیں برابر پہنچتی تھیں اور وہ آپ سے باوجود بادشاہ ہونے کے خائف تھا آخر اس نے عرب کے گورنر کو آپ کی گرفتاری کا حکم بھیجا۔آدمی شاہی حکم لے کر آپ کے پاس آئے اور صاف صاف عرض کر دیا اور کہا کہ نا فرمانی