اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 253

253 ہمارے دل میں نہیں مگر یہ کس طرح ممکن تھا کہ ایک انسان دوسرے سے اثر قبول نہ کرتا۔جس طرح ہزاروں میل سے آئے ہوئے بادل اور ٹڈی فصل کو تباہ کر دیتی ہے اسی طرح ہزاروں میل سے آئے ہوئے خیالات بھی ہمارے خیالات کو تباہ کر سکتے ہیں اور جب تک کہ ہم ایک ایسا دائرہ نہ بنائیں جس سے کوئی چیز گزر نہ سکے ہم محفوظ نہیں رہ سکتے۔یہ دائرے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک آسمانی اور ایک زمینی۔آسمانی دائرہ تو یہ ہے کہ قریب کے زمانہ میں مامور کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہو یا اس کے ہاتھ میں ہاتھ دینے والوں کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہو۔یا انکے ہاتھ میں ہاتھ دینے والوں سے تعلق پیدا کیا جائے یہ آسمانی دائرہ ہے جس میں آنے والی جماعتیں باوجود شرارت اور بدی کی فروانی کے زیادہ تر محفوظ رہتی ہیں اور اللہ تعالے اُن کی دستگیری فرماتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو آج ساری دنیا میں جو فسادات پھیل رہے ہیں احمدی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ان سے محفوظ ہے۔احمدی جماعت محض حضرت مسیح موعود علیہ اسلام سے تعلق کی وجہ سے اُن سے اٹھی حفاظت میں ہے۔پس حفاظت کا ایک ذریعہ تو نبی کا قرب ہے اور دوسرا ذریعہ قرآن کریم نے یہ بیان کیا ہے وَمَا كَانَ الله مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتغفرون یعنی جو لوگ بدی کے سامانوں کو تباہ کر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی عذاب سے بچائے جاتے ہیں۔مگر مومن کا کام یہ ہے کہ وہ ہدی کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔جس طرح گندگی کو بالکل تو نا بود نہیں کیا جاسکتا لیکن گڑھا کھود کر اس میں ڈال کر او پر مٹی ڈالی جاسکتی ہے اور اس طرح اس کی عفونت سے انسان بچ سکتا ہے اسی طرح ہم بدی کو دنیا سے بالکل مٹا نہیں سکتے مگر اُسے دبا سکتے ہیں۔پس دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ بدی کو دبا دیا جائے اور اسے پھیلنے سے روکا جائے۔اس کا طریق یہی ہے کہ ان لوگوں کو جو بدی پھیلانے والے ہیں اپنے اندر شامل کر لیا جائے اور اس طرح اُن کے بد ارادوں کو دور کر دیا جائے۔پس تباہی سے بچنے کے یہ دونوں طریق ہیں۔ایک نبی کا قرب اور اُس کی جماعت میں شمولیت یا یہ کہ کوشش کر کے بدی کو دبادیا جائے۔اور جہاں یہ دونوں باتیں جمع ہو جائیں وہ تو نُور علی نُور ہے۔پردہ کے متعلق ہندوستان میں پیزو پیدا ہورہی ہے کہ اسے بالکل چھوڑ دیا جائے۔ایسے لوگ اپنی پستی کے تمام الزامات پر دہ پر لگاتے ہیں حالانکہ جو پر دو ترک کر رہے ہیں وہ دل سے بھی دوسروں کے غلام بنتے