اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 250
250 پس تم بھی ظالمانہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہ کرو۔اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کو دُور کرو۔اُس کے بنائے ہوئے تو انہیں کو صحیح طریق سے عمل میں لاؤ تا یاد بار تم سے ڈور ہو۔اور یہ بات یاد رکھو کہ آئندہ ہماری جماعت میں یہ مسئلہ نہ اُٹھے۔دوسرا مسئلہ دُعا ہے یہ ایسا ہتھیار ہے کہ جہاں پڑے کاٹ دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے فرماتا ہے کہ اے میرے رسول ! ہمارے بندوں سے کہدے کہ میرا رب تمھاری کیا پرواہ کرتا ہے اگر تم دعا سے اسکے ساتھ تعلق نہ رکھو مگر افسوس ہمارے ملک میں دعا کی ایسی بے قدری ہوئی ہے کہ ٹوٹی ہوتی کی بھی نہ ہوتی ہو حالانکہ اسلام نے مسلمانوں کو یہ ایک ایسا ہتھیار دیا ہے جس پر مسلمان جتنا بھی ناز کرتے کم تھا۔دعا خالق اور مخلوق کے مابین راستے کی سیڑھی ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے خواب میں دیکھا کہ ایک کھائی کھدی ہوئی ہے اور بھیٹر میں لیٹی ہوئی ہیں گویا ذبح کرنی ہیں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ اسلام وہاں پہنچے تو لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کے منتظر تھے کہ ان کو ذبح کریں۔اس وقت کشفی طور پر آپ کو معلوم ہوا کہ بھیریں گناہ گار انسان ہیں۔پھر آواز آئی که قُلْ ما يَعْبُقُ بِكُمُ رَبِّيٌّ لَوْ لَا دُعَاءُ كُم خدا سے دعا کرو کہ تمھاری سختیاں معاف ہوں مگو یا سخت سے سخت مشکلات کامل دعا سے ہو سکتا ہے۔اگر دعا نہ ہوتی تو انسانی زندگی بالکل بے کیف رہتی۔حضرت مسیح ناصری نے کیا لطیف فرمایا کہ انسان روٹی سے نہیں خدا کے کلام سے زندہ رہتا ہے پس خدا کا علم اور اس کے بعد دعا انسانی زندگی کے لئے ضروری ہیں اس کے بغیر تمھاری زندگیاں بریکار تمھارے کام بے ثمر ہیں۔یہ مت خیال کرو دنیا میں بڑے بڑے بادشاہت خدا کو نہیں مانتے اور وہ پھر بھی بڑے خوش نصیب ہیں۔یہ صحیح ہے مگر بادشاہ کوئی کامیابی نہیں۔اگر کوئی اس پر گھمنڈ کرتا ہے تو اس کی بیوقوفی ہے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جس طرح ایک کسمپرس چوڑا۔جان کندنی یا تکلیف جسمانی کے وقت درد و کرب سے کراہتا ہے اسی طرح ایک طاقت ور مگر خدا کو نہ ماننے والا بادشاہ بھی۔نبیوں کی زندگی دیکھو کہ جن کو زمانہ کے معدومد کی کچھ پرواہ نہیں، دکھوں کا غم نہیں ، مصائب میں سینہ سپر بھی ہیں اور بے فکر بھی۔غرض ان کا دل اس طرح مطمئن ہے کہ تمام جہان کی بادشاہت حاصل کر کے ایک