اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 249

249 موت ہی ہے۔وہ کہنے لگا تو مجھے پسے ہوئے دانوں میں شمار کر۔کیا تم یہ بجھتی ہو کہ بچہ ماں کی پھٹکار سے بیمار ہوا یا ماں کی بددعا سے مرا؟ مگر اللہ تعالیٰ کے متعلق تم نہایت بے باکی اور بے خوفی سے کہہ دیتی ہو کہ یہ علم خدا کی تقدیر ہے۔تم خدا کو مالک خیال کرتی ہو تو ساتھ رحیم بھی خیال کرو ظالم کیوں خیال کرتی ہو۔خدا کا کیا فائدہ ہے کہ تمہارے بچے کو بیمار کرے تم نے اس کو نگا رکھا تم نے بے احتیاطی کی، تم نے بد پرہیزی کی وہ نمونیا میں مبتلا ہو گیا۔اب تم خدا پر الزام رکھتی ہو اپنی غفلت نہیں کہتیں۔تمہارا بچہ جاہل رہا اس لئے کہ تم نے اُسے پڑھنے کا شوق نہ دلایا، اس کی تادیب نہ کہ، اُس کو آوارگی سے نہ بچایا مگر اپنے اس قصور پر اب تقدیر کا حوالہ دیتی ہو۔بھلا کب خدا کے فرشتوں نے تمہارے بچے کو جاہل رہنے کی ترغیب دی؟ کب اُنہوں نے تمہارے بچے کی کتابیں چھین لیں؟ کب اُس کے سکول کے راستے کو روکا۔یہی وہ تقدیر کا مسئلہ ہے جس پر ایمان لا کر ہمارا ملک خدا کے فضلوں سے محروم ہو گیا۔دیکھو اسی ملک کے انگریز پیچ تندرست اور تمہارے بیمار ہیں، اس میں انگریز تعلیم یافتہ اور تم جاہل ، انگریز آسودہ حال تم فلاکت زردہ ، وہ عالی مرتبہ اور بغاش تم سراپا عکسبت اور نگین ، ا کی وجہ یہ نہیں کہ تقدیر کی اُن سے دوستی اور تم سے دشمنی ہے بلکہ وہ محض یہ ہے کہ انہوں نے قانون قدرت کے مطابق کام کیا یا یوں کہو کہ دنیا کی مشینری کا صحیح استعمال کیا اور فائدہ اٹھایا مگر تم نے نافرمانی اور خلاف قائدگی سے نقصان پایا۔جب کچھ بیمار ہو جاتا ہے تمہاری غفلت کی وجہ سے تمہاری بے وقوفی کی وجہ سے ، تمہاری جہالت کی وجہ سے ، تو تم اس کو تقدیر سے وابستہ کرتی ہو اپنی غلطی کو نہیں مانتیں اور نہ اپنی اصلاح کی کوشش کرتی ہو۔خود تربیت کا خیال نہیں رکھتیں مگر جب وہ خراب اور اوباش ہو جاتا ہے تو کہتی ہو " جی تقدیر "۔یا د رکھو یہ تمام باتیں غفلت اور قانون شکنی کی ہیں۔خدا نے قانون بنائے ہیں اُن پر چلنے والے کامیاب ہوں گے خلاف ورزی کرنے والے تباہ۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ اس تقدیر کی آڑ میں خدا پر الزام نہ رکھو۔عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ کا یہی مطلب ہے کہ خدا کا علم یعنی اس کی صفات سے واقفیت تم خدا کی فرستادہ جماعت کا حصہ ہو تم کو اُس کی ذات کا علم ہونا ضروری ہے۔تم تقدیر کو چھوڑ و تقدیر خدا کے ساتھ اچھے موقعوں پر منسوب کرو۔جانو کہ وہ قادر ہے، وہ رحیم ہے، وہ رحمن ہے ، وہ عقدہ کشاہ ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مسئلہ تقدیر کو کیسی لطیف شان دی ہے۔فرماتے ہیں بیمار میں پڑتا ہوں شفا خدا دیتا ہے، جاہل میں رہتا ہوں علم خدا دیتا ہے غفلت میں کرتا ہوں ہوش میں و دلاتا ہے،