اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 239

239 ہے۔جیسے لڑائیاں اور جنگیں ہیں۔پس ناقصات العقل نسبتی امر ہے اور اس سے عورت کا حق نمائندگی نہیں مارا جاسکتا کیونکہ اگر ایسا کیا جائے تو سب کے سب اول درجہ کی عقل رکھنے والے مردوں کو حق نمائندگی ملنا چاہیئے دوسروں کا حق نہیں ہونا چاہئے مگر مجلس مشاورت میں جو نمائندے آتے ہیں ان میں گوا ملے درجہ کی عقل رکھنے والے بھی ہوتے ہیں مگر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو کچھ نہیں جانتے۔اُن سے بڑھ کر بیسیوں مرد دوسرے مقامات پر ہوتے ہیں۔اور مرد ہی نہیں بیسیوں عورتیں بڑھ کر ہوتی ہیں۔مثلاً ایک ایسا شخص جو کسی گاؤں سے آتا ہے اور مجلس مشاورت کا نمائندہ ہوتا ہے اس سے زیادہ واقفیت رکھنے والے بہت سے ہماری جماعت کے مرولا ہور میں ہوتے ہیں مگر انہیں نمائندگی کا حق نہیں دیا جاتا۔غرض عورتوں کو نمائندگی دینا ان کا حق ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح انہیں یہ حق دیں۔میں سمجھتا ہوں الفضل کے مضامین پڑھ کر بعض لوگوں کو تو یہ خیال پیدا ہو گیا ہو گا کہ جہاد کا موقع آگیا ہے۔مگر انہیں یا درکھنا چاہیئے عورتوں کا یہ حق ہے۔ہاں سوال یہ ہے کہ کس طریق سے اُن سے مشورہ لیا جائے تا کہ اُن کا حق بھی زائل نہ ہو اور ان کے مشورہ سے ہم فائدہ بھی اُٹھائیں۔از (الفضل ۷۔جنوری ۱۹۳۰ء جلد ۷ انمبر ۵۳) شادی بیاہ کی رسمیں اور انکی اصلاح حضرت سید محمد الحق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی دختر سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ کے رخصتانہ کی تقریب پر رسوم شادی کے متعلق ایک بیان پڑھا تھا جس کے متعلق حضرت خلیفہ مسیح ثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک تقریر فرمائی۔اس تقریر سے اصولی طور پر ان رسوم کے متعلق ایک رہنمائی ہوتی ہے۔شادی کے متعلق صحیح اسلامی تعلیم نکاح کے متعلق چار باتیں ہیں۔دو تو اسلام کا حصہ ہیں۔ایک یہ کہ لڑکی کی اجازت کے ساتھ نکاح کیا جائے اور دوسرے اعلان نکاح لیکن دوسری دو اسلام کا حصہ نہیں۔پہلی یہ کہ لڑکے والے لڑکی کے مکان پر جا کر لڑکی کو لائیں کیونکہ یہ بات دونوں طرح ثابت ہے۔لڑکے والے بھی جا کر لڑکی کو لے آتے ہیں اور ایسا بھی ثابت ہے کہ خودلڑکی والے لڑکے کے گھر لڑکی پہنچا دیتے ہیں بلکہ میرا امطالعہ تو یہ ہے کہ کثرت سے اس کی