اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 240
240 مثالیں ملتی ہیں کہ خود لڑکی والے لڑکے والوں کے گھر لڑکی کو لے آئے۔پس ایک نئی پابندی اسلام میں داخل کرنی کہ لڑکے والے ہی ضرور لڑکی کو لینے جائیں ٹھیک نہیں اور اس سے مشکلات ہوں گی۔اس میں شبہ نہیں کہ لڑکی کے احترام کو مد نظر رکھتے ہوئے عام طور پر لڑکے والے اُسے لینے جاتے ہیں لیکن اگر لڑکی والے خود پہنچا دیں تو بھی کوئی حرج نہیں۔دوسری بات جہیز دینا ہے۔جس چیز کو شریعت نے مقرر کیا ہے وہ یہی ہے کہ مرد عورت کو کچھ دے۔عورت اپنے ساتھ کچھ لائے یہ ضروری نہیں۔اور اگر کوئی اس کے لئے مجبور کرتا ہے تو وہ سخت غلطی کرتا ہے۔ہاں اگر اس کے والدین اپنی خوشی سے کچھ دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ ضروری نہیں ہاں لڑکے والے نہ دیں گے تو یہ نا جائز ہوگا۔شریعت نے ہر مرد کے لئے عورت کا مہر مقرر کرنا ضروری رکھا ہے۔میر صاحب کے مضمون میں بعض باتیں اور بھی ہیں جو میری سمجھ میں نہیں آئیں۔مثلاً اگر یہ کہ اگر رشتہ دار شامل ہوں گے تو انہیں کپڑوں کا لحاظ رکھنا پڑے گا اور وہ نئے کپڑے بنوائیں گے حالانکہ شمولیت کا لازمی نتیجہ کپڑے بنانا نہیں۔ہم یہاں موجود ہیں لیکن ہم نے کوئی نئے کپڑے نہیں بنائے جو موجود تھے وہی پہنے ہوئے ہیں۔تو شمولیت کو اس وجہ سے ترک کرنے کی کوشش کی جائے کہ نئے کپڑے بنوانے پڑتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جماعت میں شمولیت کو ہی معیوب سمجھا جانے لگے گا اور آہستہ آہستہ جماعت میں یہ احساس پیدا ہونے لگے گا کہ لوگ ایسے موقعوں پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کریں۔عورتیں اور مرد سب اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں اس لئے یہ بھی درست نہیں طاقت و استطاعت نہ ہونے کے باوجود محض ایسی تقریب میں شمولیت کی غرض سے نئے کپڑے بنوانے کے خیال کو مٹانے کی ضرورت ہے نہ کہ شمولیت کو ہی۔جہیز اور بری کی رسوم کی اصلاح اس میں طلبہ نہیں کہ جہیز اور بری کی رسوم بہت بُری ہیں اس لئے جتنی جلدی ممکن ہو ان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیئے اور میں اس امر میں میر صاحب کی تھی تائید کرتا ہوں۔ایسی و با اور مصیبت جو گھروں کو تباہ کر دیتی ہے اس قابل ہے کہ اسے فی الفور مٹا دیا جائے اور میں نے دیکھا ہے کہ اچھے اچھے گھرانے اس رسم میں بہت بُری طرح مبتلا ہیں اور مجھے اس کے اظہار میں بھی کوئی شرم نہیں محسوس ہوتی کہ ہمارے اپنے گھر کی مستورات کو بھی اس کا خیال رہتا ہے اور میں نے اُن کے مُنہ سے ایسے کلمات ضرور سنے ہیں کہ کچھ نہ کچھ