اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 208
208 جماعت احمدیہ کی خواتین توجہ کریں (حضرت خلیفہ المسح الثانی رضی اللہ تعالی عن) میں اس سے پہلے اعلان کر چکا ہوں کہ چونکہ برتن میں روپیہ کی کمی کی وجہ سے مسجد بنی ناممکن ہوگئی تھی اس لئے لنڈن میں عورتوں کے چندہ سے مسجد بنادی گئی ہے۔اور میں نے عورتوں سے دریافت کیا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو اسی مسجد کو اُن کی طرف منسوب سمجھا جائے اور اگر چاہیں تو مرد اس کی قیمت ان کو ادا کر دیں گے اور اُن کی مسجد کسی اور ملک میں بنوادی جائے گی۔چونکہ اس کا جواب عورتوں کی طرف سے نہیں ملا اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کی خواتین اس امر پر راضی ہیں کہ لنڈن کی مسجد جو اب ایک عالمگیر شہرت حاصل کر چکی ہے اُن کی طرف منسوب کر دی جائے اور میرے خیال میں لنڈن کی عظمت کو مد نظر رکھ کر مناسب بھی یہی ہے کہ اس مسیحیت کے مرکز میں عورتوں کی بنائی ہوئی مسجد ہوتا کہ مسیحیت جو اعتراض کرتی ہے کہ اسلام عورتوں کے حقوق کو پامال کرتا ہے اس کا ایک عملی جواب ہو۔مگر پھر بھی میں اس سوال کو آئندہ مجلس شوریٰ میں پیش کروں گا اور اس وقت تک بہنیں بھی غور کر لیں کہ آیا وہ یہ پسند کریں گی کہ مسجد لنڈن اُنکی طرف منسوب کر دی جائے یا یہ کہ جب امریکہ یا یورپ کے کسی اور ملک میں مسجد کی ضرورت پیش آئے تو وہاں اُن کی طرف سے مسجد بنادی جائے۔سر دست میں ایک اور معاملہ کی طرف تمام بہنوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اس مسجد کے بن جانے کے سبب سے انگلستان میں تبلیغ کا کام بہت بڑھ گیا ہے اور آب خدا تعالیٰ کے فضل سے کام دو آدمیوں کی طاقت سے زیادہ ہے۔اس کے متعلق مجھے پہلے شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے ولایت سے توجہ دلائی تھی اور لکھا تھا کہ اس کا نقص یہ ہوتا ہے کہ بعض اہم کاموں کو چلا کر پھر انہیں بند کر دینا پڑتا ہے اور اس سے وہ مفید نتائج پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہیں۔اسکے بعد اور چند دوستوں نے بھی اس طرف توجہ دلائی اب خانصاحب مولوی فرزند علی صاحب نے بھی خط لکھا ہے کہ کام زیادہ معلوم ہوتا ہے اور عملہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔چونکہ مسجد کی تعمیر کے بعد مناسب عملہ کا نہ رکھنا گویا پہلے خرچ کئے ہوئے رو پیسہ کو بھی ضائع کرتا ہے اس