اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 207
207 کے لئے تشریف لائے جن سے دہلی کے شاہی خاندانوں کی تباہی اور پُر انے اہل علم گھرانوں کی بربادی کے متعلق گفتگو ہوتی رہی پھر انسپکٹر صاحب نے پردہ کے متعلق حضور کی رائے معلوم کرنی چاہی اسپر حضور نے اس گفتگو کا حوالہ دیا جو چند ہی دن قبل ایک میڈیکل سٹوڈنٹ سے ہوئی اور جو الفضل میں شائع ہو چکی ہے الفضل کا یہ پر چہ انسپکٹر صاحب کو دیا گیا۔اس گفتگو پر حضور نے مزید اضافہ یہ فرمایا کہ:۔ایسے امور جو اعمال سے تعلق رکھتے ہیں اُن کے متعلق الفاظ پر بحث کرنے کی بجائے اُن لوگوں کے اعمال دیکھنے چاہیں جو ان کے پہلے مخاطب تھے۔پردہ کے متعلق ہمیں رسول کریم ﷺ اور صحابہ کے عمل کو دیکھنا چاہیئے اس سے پتہ لگتا ہے کہ منہ کا پردہ تھا۔اس قسم کے واقعات احادیث میں پائے جاتے جن سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے۔یہ واقعات ایسے نہیں جو پردہ کی حمایت میں کسی نے بیان کئے ہوں کہ ان کے متعلق کہا جائے ان میں بیان کرنے والوں کی ذاتی رائے اور رجحان طبیعت کا دخل ہے بلکہ وہ باتیں دوسرے واقعات کے سلسلہ میں بیان ہوئی ہیں اس وجہ سے پردہ کے متعلق فیصلہ کن ہیں کیونکہ یہ واقعات پردہ کا مسئلہ ذہن میں رکھ کر نہیں بنائے گئے بلکہ عام حالات بیان کئے گئے ہیں پس منہ کا چھپانا احادیث اور اسلامی تاریخ کے واقعات سے ثابت ہے۔انسپکٹر صاحب :۔الا ماظھر کے کیا معنے آپ خیال فرماتے ہیں ؟ حضرت خلیفہ اسی:۔اس کے معنے ہیں وہ حصہ جو آپ ہی آپ ظاہر ہو۔جس کو کسی مجبوری کی وجہ سے چھپایا نہ جاسکے ، خواہ یہ مجبوری بناوٹ کے لحاظ سے ہو جیسے قد ہے، یا بیماری کے لحاظ سے ہو کہ کوئی حصہ جسم علاج کے لئے دکھانا پڑے یا کام کے لحاظ سے ہو کہ کام کرنے کے لئے کوئی حصہ نگا رکھنا پڑے۔قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ زینت کو چھپاؤ، اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ چہرہ چھپانے کا حکم نہیں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ پھر زبانت ہے کیا چیز جسے چھپانے کا حکم دیا گیا ہے ؟ ہم اس حد تک قائل ہیں کہ چہرہ کو اس طرح چھپایا جائے جس سے صحت پر اثر نہ پڑے۔یعنی باریک کپڑا ڈال لیا جا۔یا عرب کی طرح نقاب بنالیا جائے۔عرب میں اسی طرح کا نقاب ہوتا ہے کہ آنکھیں اور ناک کا کچھ حصہ کھلا رہتا ہے۔ڈلہوزی ۹۔جولائی از الفضل ۱۷۔جولائی ۱۹۲۸ نمبر ۵ جلد ۱۶)