اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 159

159 دوسروں سے سیکھتے ہیں وہ جھٹ دوسروں کے سامنے بھی کرنے لگ جاتے ہیں اس طرح اُن کے عیوب کا پتہ لگ جاتا ہے۔اگر ماں باپ عمدگی سے انکی اصلاح کرنی چاہیں تو بہت آسانی سے کر سکتے ہیں لیکن بہت ہیں جو نیچے کی ایسی حرکات پر جو نا پسندیدہ ہوتی ہیں پیار اور محبت کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے اور اگر ایک آدھ دفعہ کہہ بھی دیا تو پھر خیال نہیں رکھتے۔اور بہت سے ایسے ہیں کہ اگر اُن کو اُن کے بچوں کے عیب بتلائے جائیں تو وہ لڑنے لگ جاتے اور خواہ مخواہ اپنے بچے کی تائید کرنے لگ جاتے ہیں اور بعض اوقات بچوں کی لڑائی کی وجہ سے بڑوں میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔تو سب سے پہلی اور نہایت ضروری بات یہ ہے کہ ماں باپ بچوں سے ناجائز محبت نہ کریں۔اگر کوئی اُن کے بچے کے متعلق شکایت کرے تو اس کی اصلاح کی تجویز کریں۔اگر بچہ جھوٹ بولتا ہے یا چوری کرتا ہے یا کوئی اور بدی اس میں ہے تو اسے سرزنش کر یں لیکن ایسی بھی سختی نہ ہو کہ بچہ ان سے چھپ کر بدی کرنے لگے۔بعض لوگ اتنی کفتی کرتے ہیں کہ بچہ پھر یہ کوشش کرتا ہے کہ میرے عیب کا ماں باپ یا کسی اور کو پتہ نہ لگے۔اس طرح وہ پوشیدہ عیب کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور ایسے بچوں کے عیوب کی اصلاح نا ممکن ہو جاتی ہے اس لئے ہمیشہ اس بات کی بھی نگرانی کرنی چاہیئے کہ بچہ چھپ کر عیب نہ کرے تا اُس کے عیوب کا پتہ لگتار ہے اور اس طرح بڑی آسانی سے اُس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔عیب کس طرح پیدا ہوتا ہے اور اُسے کس طرح چھڑایا جاسکتا ہے یہ ایک بڑا علم ہے جسے میں اس وقت چھوڑتا ہوں۔اس وقت جو بیان کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اخلاق اور اعمال کی درستی کے لئے نہ تو بچوں پر سخت پابندی کی جائے کہ وہ کسی سے نہ مل سکیں اور نہ اُن کو بالکل آزا اور ہنے دیا جائے کہ وہ جو چاہیں کرتے پھریں ان کی کوئی نگرانی نہ کی جائے۔دوسرے یہ کہ بچوں سے ناجائز محبت بھی نہ کی جائے۔اس بات کی تفصیل کے بعد اب میں یہ بھی بتلاتا ہوں کہ جہاں اپنے بچوں کی اصلاح کی فکر اور نگہداشت ضروری ہے وہاں دوسرے بچوں کے اخلاق و عادات کی نگہداشت بھی ضروری ہے۔پس آپ جب تک دوسروں کے بچوں کے اخلاق کی بھی نگرانی نہیں کریں گے اپنے بچوں کی طرف سے مطمئن نہیں ہو سکتے۔عام علاجوں میں سے ایک یہ بھی ہے جو حضرت خلیفہ الاوّل بھی فرمایا کرتے تھے کہ بچوں کو بعض مفید فقرے یاد کرادئے جائیں جن میں اُن کو بتایا جائے کہ ہم یہ کریں گے یہ نہیں کریں گے۔اس کا بھی بہت