اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 160
160 الله بڑا اثر ہوتا ہے۔دوسری بات جو رسول کریم ﷺ سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ رات کو سونے سے پہلے دعا کی عادت ڈالی جائے۔کیونکہ ذکر الہی کئے بغیر سونا جائز بھی نہیں۔آنحضرت ﷺ بلا ناغہ آیت الکرسی اور تینوں قل پڑھ کر اپنے بدن پر پھونکا کرتے تھے جس بات کو آپ بلا ناغہ کریں وہ سنت کہلاتی ہے پس جس طرح نماز کی سنتیں ضروری ہیں اسی طرح یہ سنت بھی ضروری ہے اور اگر اُن کو ترک کرنے میں گناہ ہے تو پھر اس کے ترک کرنے میں بھی گناہ ہونا چاہیئے۔اگر کہا جائے کہ نماز کی سنتوں کے متعلق تو آنحضرت ﷺ نے خصوصیت سے فرمایا ہے اس لئے وہ ضروری ہیں۔تو میں کہتا ہوں سونے سے پہلے دعا کے متعلق بھی آپ نے فرمایا ہے اور ثابت ہے کہ بعض آدمیوں کو آپ نے دعا سکھلائی۔آخر کسی خاص اہتمام کے ساتھ نہ نماز کی سنتوں کے متعلق آپ نے عام لیکچر دیا اور تاکید کی اور نہ سونے سے پہلے دعا کے متعلق کوئی ایسی کاروائی کی۔جس طرح اُن ستوں کے متعلق آپ نے حکم فرمایا اسی طرح اس سنت کے متعلق بھی ثابت ہے کہ آپ نے بعضوں کو دعا سکھلائی اور اس کی تاکید کی۔تو سونے سے پہلے دعا کرنا اسلام کے لئے ایسے امور میں سے ہے جو ایک مومن کے لئے نہایت ضروری ہے اگر بچوں کو بھی ایک ایک دعا یاد کرا دی جائے اور سونے سے پہلے اس دعا کا پڑھانا شروع کرایا جائے تو اس سے بہت بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔عیسائیوں میں دیکھا ہے وہ اپنے بچوں کو سونے نہیں دیتے جب تک کہ پہلے اُن سے مذہبی دعا نہ کر لیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ بڑا ہوکر وہر یہ ہی کیوں نہ ہو جائے عیسائیت کے احکام کا اس کے دل میں خوف اور ڈر ضرور رہتا ہے لیکن مسلمانوں میں یہ بات نہیں۔میں نے بتایا ہے کہ خواہ ماں باپ کتنی بھی کوشش کریں کہ ان کا بچہ بداخلاقیوں کے بداثرات سے محفوظ رہے جب تک بچے کی صحبت اور مجلس نیک نہ ہو گی اُس وقت تک ماں باپ کی کوشش بچوں کے اخلاق درست کرنے میں کارگر اور مفید ثابت نہیں ہو سکتی۔بے شک ایک حد تک اٹھی اچھی تربیت سے بچوں میں نیک خیالا ت پیدا ہوتے ہیں لیکن اگر بچے کی عمدہ تربیت کے ساتھ اس کی صحبت بھی اچھی نہ ہو تو بد صحبت کا اثر تربیت کے اثر کو اتنا کمزور کر دیتا ہے کہ اس تربیت کا ہونا نہ ہونا قریباً مساوی ہو جاتا ہے۔بچپن کی بدصحبت ایسی بد عادات بچے کے اندر پیدا کر دیتی ہے کہ آئندہ عمر میں اُن کا ازالہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ایسے آدمی کے قلب میں دو متضاد کیفیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ایک طرف تو ماں باپ کی نیک تربیت اس کو نیکی کی طرف کھینچتی ہے اور