اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 147

147 ہر روز قربانی کرنا ناممکن ہے الله سی ایک وقتی قربانی تھی جو پورے اخلاص کے ساتھ کی گئی لیکن اگر یہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہوتی یعنی جو کچھ بھی انہیں میسر آتا وہ سارے کا سارا ہر روز رسول کریم ﷺ کے حضور لا کر رکھ دیتے۔تو یہ ابو بکر جیسے انسان کے لئے بھی ناممکن اور نا قابل برداشت ہوتا اور وہ اپنے نفس کے حقوق، اپنے بیوی بچوں کے حقوق، ہمسائیوں کے حقوق قرابتیوں کے حقوق ادا نہ کر سکتے جن کا ادا کرنا بھی انسان پر فرض ہے۔پس ہمیشہ ہمیش کے لئے ایسا نہیں ہوسکتا البتہ وقفہ وقفہ کے بعد ہو سکتا ہے اور ہمیشہ کے لیئے ایسا کرنا شرعاً بھی ناجائز تھا کیونکہ مال پر اُن کی اپنی زندگی کا بھی مدار تھا، اُن کے بیوی بچوں کی زندگی کا بھی مدار تھا انہوں نے کھانا کھانا تھا، کپڑے پہنے تھے، مکان کا انتظام کرنا تھا، رہائش کا بندو بست کرتا تھا اور دوسری ضروریات پوری کرنی تھیں۔پس اگر وہ ہمیشہ کے لئے ہی اس طریق کو اختیار کر لیتے کہ ہر روز سب کچھ رسول کریم ﷺ کو لا کر دے دیتے تو یہ نبھ نہ سکتا اور اُن کے لئے ایسی مشکلات پیدا ہو جاتیں جو نا قابل برداشت ہوتیں۔اسی طرح ایک انسان یہ تو برداشت کرلے گا کہ مال تو مال جان تک بھی ایک دوست کی خاطر دیدے۔مثلاً اگر وہ یہ دیکھے کہ اس کا دوست ڈوب رہا ہے تو اس کو بچانے کے لئے خواہ وہ تیرنا بھی نہ جانتا ہو گو د پڑے گا اور یہ بھی وہ خیال نہیں کرے گا کہ مجھے تیر نا نہیں آتا کیونکہ ایک دوست کی خاطر جان دید بیناوہ گوارہ کرے گالیکن یہ نہیں گوارہ کر سکے گا کہ سسک سسک کر جان دے اور متواتر صدمات سہنے کے لئے اپنی جان پیش کر دے۔پس یہ تو برداشت ہو سکتا ہے کہ اپنی زندگی کو ایسی تکلیف میں ڈال دے جو وقتی ہو لیکن ہمیشہ کے لئے کوئی تلخی میں پڑنا گوارہ نہیں کر سکتا۔ایک دوست ایک دوست کی خاطر ایک گھنٹہ میں تو جان دے دے گا لیکن ساری عمر کے لئے اپنی زندگی اس کی خاطر ایسی بنالے کہ ہر وقت اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالے رکھے یہ ناممکن ہے۔مثلاً ایک شخص کو کسی سے محبت ہو اور وہ اُس سے جان طلب کرے تو وہ دے دیگا لیکن اگر وہ یہ کرے کہ ایک نشتر کے ساتھ اُس کے جسم کو چھیلنا شروع کر دے یا اُس کے بدن سے تھوڑاتھوڑا گوشت کاٹنا شروع کر دے تو اس کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں پائے گا۔اسی طرح ایک شخص اپنے کسی دوست یا عزیز کے واسطے کو ٹھے سے گر کر جان دے دینا گوارہ کر سکتا ہے ، آگ میں جل کر جان دینے کے لئے تیار ہو جائے گا لیکن سوئیوں سے چھیدا جا کر جان دینا اس کی برداشت سے باہر ہوگا اور اس کے لئے اپنے آپ کو وہ ہرگز تیار