اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 148

148 نہ پائے گا کیونکہ وقتی طور پر جان دینا ممکن ہے لیکن زندہ رہتے ہوئے ہمیشہ کے لئے تکلیف میں پڑے رہنا بہت عمل ہے بلکہ بعض حالتوں میں ناممکن العمل بات ہے۔مہر کیا ہے؟ آب دیکھو ہر کیا چیز ہے؟ مہر عورت کی آئندہ زندگی کے ایسے اخراجات کے پورا کرنے لئے ہے کہ جن میں بعض کا ذکر وہ اپنے خاوند سے بھی نہیں کر سکتی یا جن اخراجات کی اُسے آئندہ زندگی میں ضرورت پیش آتی ہے اور شادی کے وقت وہ انکو جانتی بھی نہیں۔پھر عورتوں کی بعض ایسی ضرورتیں ہوتی ہیں کہ وہ خاوندوں کو کہہ تو سکتی ہیں لیکن بعض حالات کے ماتحت خاندان کو پورا نہیں کر سکتے اس لئے ان کے پاس اپ کچھ مال ہوتا چاہیئے۔مثلاً ایک عورت اگر اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے غریب رشتہ داروں یا غریب والدین کی مدد کر سکتی ہے۔غریب اقرباء کو مدد دے سکتی ہے۔مگر یہ اُس کی غیرت کے خلاف ہے کہ خاوند سے کہے کہ میرے ماں باپ قابل اعداد میں اُن کی مدد کرو، یا میرے رشتہ داروں کو کچھ دو، اس بارے میں عورت بڑی غیرت رکھتی ہے اور وہ فطرتا اس بات کو پسند نہیں کرتی کہ اپنے والدین کو خاوند کے سامنے حاجتمند قرار دے۔غرض کئی صورتیں ہیں جن کے لئے عورت کا اپنا مال بھی ہونا چاہیئے اسی لئے شریعت نے مہر رکھا ہے تا کہ اگر ضرورت پڑے تو اس سے وہ اپنے ان کاموں میں خرچ کر سکے جن کے لئے وہ اپنے خاوند سے نہیں کہہ سکتی اور ان قابل امدا درشتہ داروں کی مدد کر سکے جن کے لئے وہ اپنے خاوند سے کہنا مناسب نہیں خیال کرتی۔پس مہر وہ مال ہے جو عورت کی ساری عمر میں کام آنے کے لئے ہے۔نیت پر اثر دوسری بات جس کا مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔نیت ہے۔اگر یہ بات رائج ہو جائے کہ لڑکی کا مبر والدین لے لیا کریں تو اس بات کا بہت بڑا خطرہ ہے کہ بہت سے والدین کی نیت اُس شادی میں صاف اور بے لوث نہیں رہے گی۔ماں باپ عورت کے لئے آخری اپیل کی جگہ ہوتے ہیں۔جب اُسے تکلیف پہنچتی ہے وہ جھٹ ماں باپ سے اس کا ذکر کرتی ہے اور اُسے خیال ہوتا ہے کہ اگر اور کسی جگہ میری بات نہ سنی گئی تو اس جگہ ضرور سنی جائے گی اس لئے ضروری ہے کہ لڑکی کے معاملات میں ماں باپ کی کوئی نفسانی غرض شامل