اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 146
146 سوال کے مختلف پہلو کسی سوال کے مختلف پہلو ہوتے ہیں اور جب تک ان سب پہلوؤں پر غور نہ کیا جائے تب تک سوال اچھی طرح حل نہیں ہو سکتا۔ہم نماز کے متعلق ، روزہ کے متعلق ، حج کے متعلق ، زکوۃ کے متعلق بلا استثناء کوئی حکم نہیں دے سکتے۔شریعت میں استنشی رکھے گئے ہیں اور ہمیں اُن کا لحاظ رکھنا پڑے گا۔پس اگر اس جگہ یہ سوال ہوتا کہ لڑکی اپنے ماں باپ کی مدد کر سکتی ہے یا نہیں تو جواب یہ ہوتا ہے کہ ضروری ہے کہ وہ کرے اور جہاں تک اُس سے ہو سکتا ہے اُن کے ساتھ حسن سلوک اور مروت کرنے سے دریغ نہ کرے لیکن اس سوال کے بعض اور پہلو بھی ہیں اور اُن کا مد نظر رکھنا ضروری ہے۔مثلاً پہلی بات جسے مد نظر رکھنا ضروری ہے یہ ہے که انسان مال کو وقتی طور پر قربان کر سکتا ہے، جان کو وقتی طور پر قربان کر سکتا ہے، وقت کو وقتی طور پر قربان کر سکتا ہے، آرام کو وقتی طور قربان کر سکتا ہے، مگر ان میں سے کسی قربانی کو مسلسل جاری نہیں رکھ سکتا۔ایک انسان یہ تو کر سکتا ہے کہ ایک وقت کے لئے کسی تکلیف کو برداشت کرلے لیکن یہ نہیں کر سکتا کہ کسی ایک چیز کو بھی ہمیشہ ہمیش کے لئے برداشت کرتا رہے۔صلى الله حضرت ابو بکر کا اخلاص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ایثار کا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ایک دفعہ جب رسول کریم ﷺ نے چندہ کی تحریک فرمائی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے دل میں کہا آج ابو بکر (رضی اللہ عنہ ) سے بڑھنے کا میرے لئے موقعہ ہے۔یہ خیال کر کے آپ نے اپنا نصف مال لا کر رسول کریم ﷺ کے آگے رکھ دیا۔جب رسول کریم ﷺ نے پوچھا کہ کتنا مال لائے ہو ؟ تو انہوں نے کہا حضور نصف لے آیا ہوں اور نصف گھر والوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔پھر آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا۔انہوں نے کہا میں سب کچھ لے آیا ہوں اور گھر میں خدا اور رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔یہ سنکر حضرت عمر نے سمجھا آج بھی میں حضرت ابو بکر کا مقابلہ نہیں کر سکا۔میرے دل میں شرمندگی پیدا ہوئی کہ میں نیت کر کے بھی نہ بڑھ سکا اور یہ بے نیت ہی بڑھ گئے۔