اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 127
127 دین بچپن میں سکھانا چاہئے اسی طرح ایک اور خرابی یہ ہے کہ اور تو ساری باتیں بچپن میں سکھانے کی خواہش کی جاتی ہے مگر دین کے متعلق کہتے ہیں کہ بچہ بڑا ہو کر سیکھ لے گا ابھی کیا ضرورت ہے۔بچہ نے ابھی ہوش نہیں سنبھالی ہوتی اور ڈاکٹر منع کرتا ہے کہ ابھی اسے پڑھنے نہ بھیجو مگر ماں باپ اُسے سکول بھیج دیتے ہیں اور گروہ کہتے ہیں کہ چونکہ ادارہ پھرتا ہے اس لئے سکول میں بیٹھار ہے گا نگر اُن کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ سال جو اسکے ہوش میں آنے کے ہیں اُن میں بھی کچھ نہ کچھ پڑھ ہی لے۔مگر نماز کے لئے جب وہ بلوغت کے قریب آگئی جاتا ہے تب بھی یہی کہتے ہیں ابھی ابچہ ہے بڑا ہو کر سیکھ لے گا۔اگر یہ کہا جائے کہ بچے کو نماز کے لئے جگاؤ تو کہتے ہیں نہ جگاؤ نیند خراب ہو گی لیکن اگر صبح امتحان کے لئے انسپکٹر نے آنا ہو تو ساری رات جگائے رکھیں گے۔گویا انسپکٹر کے سامنے جانے کا تو اتنا فکر ہوتا ہے کہ مگر یہ نہیں کہ خدا کے حضور جانے کے لئے جگا دیں۔تو بچے کو چین میں ہی دین سکھانا چاہئے جو بچپن میں نہیں سکھاتے اُن کے بچے بڑے ہو کر بھی نہیں سیکھتے۔جس طرح بڑی عمر میں جو شخص علم سیکھنا شروع کرتا ہے وہ کبھی اعلے ترقی نہیں کر سکتا اسی طرح بڑی عمر میں دین بھی نہیں سیکھا جا سکتا۔مگر مصیبت یہ ہے کہ دنیا کے کاموں میں جو عمر بلوغت کی کبھی جاتی ہے دین کے متعلق نہیں سمجھی جاتی۔۱۸- ۱۸ سال تک کے لڑکے کے متعلق کہتے ہیں ابھی بچہ ہے دین کی پابندی کرانے کے لئے بھی کرنے کی ضرورت نہیں حالانکہ چھوٹا سا بچہ جو چند سال کا ہوتا ہے اگر قلم اُٹھا کر کہیں پھینک دیتا ہے تو اسے دھمکایا جاتا ہے اگر کسی کتاب کو پھاڑ دیتا ہے تو ڈانٹا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر ا بھی سے اُسے نہ سمجھایا گیا تو اُسے چیزیں خراب کرنے کی عادت پڑ جائے گی لیکن اگر خدا کے دین کو خراب کرے تو کچھ نہیں کہا جاتا۔اور دین اس وقت سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے جب لڑکا سمجھتا ہے کہ اب تو میں اُستاد ہوں اور میں دوسروں کو سکھا سکتا ہوں اور اس وجہ سے کچھ نہیں سیکھ سکتا۔میں جب تک ماں باپ یہ نہ سمجھیں گے کہ دین سیکھنے کا زمانہ بچپن ہے اور جب تک یہ نہ سمجھیں گے کہ ہمارا اثر بچپن میں ہی بچوں پر پڑسکتا ہے تب تک بچے دیندار نہیں بن سکیں گے۔بچوں کی تربیت میں عورتوں کا حصہ اور پھر جب تک عورتیں بھی مردوں کی ہم خیال نہ بن جائیں گی بچے دیندار نہیں ہوسکیں گے کیونکہ مرد ہر وقت بچوں کے ساتھ نہیں ہوتے۔بچے ماؤں کے ہی پاس ہوتے ہیں اور دیکھا گیا ہے کہ دیندار مائیں بھی بچوں کو دین سکھانے میں سستی کر جاتی ہیں۔نماز کا وقت ہو