اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 126
126 سے زیادہ اچھی طرح لکھے گئے جیسے کہ پہلے زمانہ میں لکھے گئے تھے۔مثلا ساتویں آٹھویں صدی کے حالات اس زمانہ کے لوگوں کو زیادہ عمدگی کے ساتھ معلوم ہیں یہ نسبت اُس زمانہ کے لوگوں کے۔اسی طرح جغرافیہ کا حال ہے پہلے سے زیادہ لوگوں کو اس کا علم ہے۔پہلے جن ملکوں کے کسی کو نام بھی معلوم نہ تھے آج ان کو سب لوگ جانتے ہیں۔مثلاً امریکہ۔اور ہمارے تو بچے بھی امریکہ کا نام خوب جانتے ہیں کیونکہ مفتی ( محمد صادق ) صاحب وہاں گئے ہوئے ہیں اور اُن کے حالات پڑھتے سنتے رہتے ہیں۔دین میں بعد میں آنے والوں کا تیل مگر عجیب بات یہ ہے کہ جہاں اُن میں بعد میں آنیوالے ترقی کرتے ہیں وہاں دین کے معاملہ میں تنزیل اختیار کرتے ہیں۔حساب جاننے میں اولا د اپنے باپ دادوں سے بڑھ کر ہوتی ہے، تاریخ میں زیادہ علم رکھتی ہے ، جغرافیہ زیادہ جانتی ہے ، اسی طرح لوہار، ترکھان ، سُنار جو پہلے مر گئے اب اُن سے بہتر کام کر نیوالے موجود ہیں مگر دینی معاملات میں یہ مثال نہیں ملتی اس کی وجہ کیا ہے؟ حالانکہ دین دُنیا کے ہر ایک کام اور ہر ایک پیشہ سے زیادہ اہم اور ضروری ہے اور چاہیئے تھا کہ اس میں زیادہ ترقی کرنے والے ہوتے۔اس کی وجہ ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ جبکہ تار یخدان تار یخدانی میں فائدہ دیکھتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ اس کے متعلق اپنا جانشین چھوڑ جائے تا کہ یہ علم مٹ نہ جائے ، اسی طرح حسابدان جب حسابدائی میں فائدہ دیکھتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ اپنا قا ئمقام پیدا کرے، اسی طرح جغرافیہ والا جب اس علم کو نفع رساں پاتا ہے تو اپنے بعد اسے جاری رکھنے کے لئے اپنا قائمقام بنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن دین کے معاملہ میں لوگوں میں بہت کم خواہش ہوتی ہے کہ اپنے سے زیادہ جاننے والے پیچھے چھوڑ ہیں۔گوکسی قدر یہ خواہش ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جو ری دین کے پابند نہیں ہوتے بلکہ اس کو مجھتے ہیں۔صرف خواہش کافی نہیں مگر خرابی یہ ہے کہ کسی امر کی صرف خواہش ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس خواہش کو پورا کرنے میں مدد دینے والے بھی ہوں۔مثلاً ایک حساب دان کی خواہش ہی کافی نہیں کہ اس کے پیچھے کوئی حساب دان رہے اور یہ خواہش اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی جب تک ایسے ماں باپ نہ ہوں جو اپنے بچوں کو اسکے سپر د کر یں۔یہی حال اور باتوں کا ہے مگر دین کے معاملہ میں ایسا نہیں تے۔