اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 128
128 جائے اور بچہ سورہا ہو تو کہتی ہیں ابھی اور سولے۔پس جب تک ماؤں کے ذہن نشین نہ کریں کہ بچوں کی دینی تربیت بچپن میں ہی کی جاسکتی ہے اُس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔پس پہلی نصیحت تو یہ ہے جس کے مخاطب والدین ہیں اور دراصل والد ہی ہیں کیونکہ اس وقت یہاں عورتیں نہیں ہیں کہ پیلوں کی دینی تربیت بچپن میں ہی کرو اور بچپن میں ہی اُن کو دین سکھاؤ تا کہ وہ حقیقی دیندار بنیں۔ہر کام میں استقلال کی ضرورت اس کے بعد میں بچوں کو مخاطب کرتا ہوں۔میں نے بتایا ہے کہ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک بعد میں آنے والے ترقی یافتہ نہ ہوں مجھے قدر تا بچوں کی تربیت سے بہت لگاؤ ہے لیکن کبھی کوئی کام عمدگی سے نہیں ہو سکتا جب تک اس کے کرنے کا طریق مد نظر نہ رکھا جائے اور ہمارے ملک میں مشکل یہ ہے کہ اس طریق کو مد نظر نہیں رکھا جاتا جس سے کسی کام میں کامیابی ہوسکتی ہے۔میرے نزدیک جس بات کی طرف سب سے پہلے توجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور جو نہایت خطرناک طور پر پھیلی ہوئی ہے وہ بے استقلالی ہے۔رسول اللہ نے سے کسی نے پو چھا سب سے بڑی نیکی کا کام کونسا ہے۔آپ نے فرمایا ماں باپ کی خدمت کرنا۔اُس نے پھر پوچھا اور آپ نے پھر یہی جواب دیا۔اسی طرح ایک شخص نے یہی سوال کیا تو آپ نے اُن کی حالت کے مطابق اسے جواب دیا اور جب تک وہ پو چھتار ہا اُس کوڈ ہراتے رہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہی سب سے بڑی نیکیاں ہیں بلکہ یہ کہ چونکہ ان میں اس کی خلاف ورزی سب سے بڑا نقص تھا اس لئے اس کی طرف توجہ دلائی۔ہمارے ملک میں بھی ایک نقص ہے اور اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ سب سے بڑا کامیابی کا گر کیا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ استقلال، پھر پوچھے گا تو ہیں کہوں گا، پھر پوچھے گا تو بھی کہوں گا اور اگر دوسرا آدمی آکر پوچھے گا تو اس کو بھی یہی جواب دوں گا ، اور تیسرے کو بھی یہی حتی کہ جتنے پو چھتے جائیں گے اور جتنی بار پوچھیں گے یہی کہوں گا کہ ہر کام میں کامیابی حاصل کرنے کا گر استقلال ہے اس کے نہ ہونے کی وجہ سے ہر کام میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ایک شخص اُٹھتا ہے اور کوئی کام شروع کرتا ہے پھر چھوڑ کر بیٹھ رہتا ہے۔اس طرح جو تھوڑے بہت کیا کرایا ہوتا ہے وہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔پس جب تک استقلال کی عادت بچوں میں اور اُن کی تربیت کر نیوالوں میں نہ ڈالی جائے اس وقت تک ساری کوشش بے فائدہ ہے۔