اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 42
42 دیتی ہیں یا اگر پڑھتی ہیں تو اس طرح پڑھتی ہیں کہ انہیں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا پڑھتی ہیں۔جلدی جلدی رکوع اور سجدہ کر کے فارغ ہو بیٹھتی ہیں اس طرح کی نماز کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اُن کی نماز اس طرح ہوتی ہے جس طرح مرغ دانے چگتا ہے۔آخر سوچنا چاہیئے نماز کوئی ورزش نہیں ہے بلکہ خدا تعالی کی عبادت ہے اس لئے اسے سمجھ کر اور اچھی طرح بھی لگا کر پڑھنا چاہیئے۔اور کوئی نماز سوائے ان ایام کے جن میں نہ پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے نہیں چھوڑنی چاہیئے۔کیونکہ نماز ایسی ضروری چیز ہے کہ اگر سال میں ایک دفعہ بھی جان بوجھ کر نہ پڑھی جائے تو انسان مسلمان نہیں رہتا۔پس جب تک ہر ایک مسلمان مرد اور عورت پانچوں وقت بلاناغہ نماز میں نہیں پڑھتے وہ مسلمان نہیں ہو سکتے۔ہاں اگر کہو آج تک ہم نے کئی نمازیں نہیں پڑھیں ان کے متعلق کیا کیا جائے تو اس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ خدا تعالی نے تو یہ رکھی ہے۔اگر آج سے پہلے تم نے جان بوجھ کر نماز میں چھوڑی ہیں تو تو بہ کر لو اور عہد کر لو کہ آمدید ہ کوئی نماز نہ چھوڑیں گی۔مینہ برستا ہو یا آندھی ہو کپڑے پاک ہوں یا نا پاک کوئی ضروری سے ضروری کام ہو یا عدم فرصت کچھ ہو کسی صورت میں نماز نہ چھوڑنی چاہیئے۔اول تو ضروری ہے کہ کپڑے پاک صاف ہوں لیکن اگر ایسی صورت ہو کہ پاک کپڑے تیار نہ ہوں یا پہنے ہوئے کپڑے اُتارنے سے بیمار ہو جانے کا خوف ہو تو خواہ کپڑے بچہ کے پیشاب میں تر ہوں تو بھی ان کے ساتھ نماز پڑھ لینا جائز ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچہ کو خود پیشاب کرا کے اس طرح نماز پڑھ لینی چاہئے بلکہ یہ ہے کہ اگر پاک کپڑے مہیا ہونے کی صورت نہ ہو تو انہیں کے ساتھ پڑھ لی جائے ورنہ اچھی بات یہی ہے کہ کپڑوں کو صاف کر لینا چاہیئے بچہ کا پیشاب ہوتا ہی کتنا ہے۔بچہ جب تک دودھ پیتا ہے روٹی نہیں کھاتا اُس وقت تک شریعت نے رکھا ہے کہ اس کے اوپر سے پانی بہا کر نچوڑ دینے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے۔تو خواہ کچھ ہو نماز ضرور پڑھنی چاہیئے۔کیونکہ نماز کسی صورت میں معاف نہیں ہو سکتی یہ ایمان کا ستون ہے۔جس طرح جہت اخیر ستون کے قائم نہیں رہتی اسی طرح نماز کے بغیر ایمان قائم نہیں رہتا۔زکوۃ دیتی رہو نماز کے بعد دوسرا حکم زکوۃ کا ہے جس کا یہ مطلب ہے جس مال پر ایک سال گزر جائے اُس میں سے غریبوں اور مسکینوں کی امداد کے لئے چالیسواں حصہ نکالا جائے۔اگر اسلامی حکومت ہو تو اُس کو وہ حصہ دے دیا جائے۔اگر نہ ہو تو جو انتظام ہو اُس کو دیا جائے۔ہم احمدیوں کا ایک با قاعدہ انتظام ہے