اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 43
43 اس لئے احمدی عورتوں کو چاہئے کہ منتظمین کو زکوۃ کا مال دے دیا کریں۔زیوروں کے متعلق یہ حکم ہے کہ اگر پہنے جاتے ہوں ان کی ذکر و نہ دی جائے اور اگر انکی بھی دی جائے تو اچھی بات ہے۔ہاں اگر ایسے زیور ہوں جو عام طور پر نہ پہنے جاتے ہوں بھی بیاہ شادی کے موقعہ پر چکن لئے جاتے ہوں اُن کی زکوۃ دینا ضروری ہے اور جو عام طور پر پہنے جاتے ہوں اُن کی زکوۃ دی جائے تو جائز ہے اور نہ دی جائے تو گناہ نہیں۔اُن کا کھنا ہی زکوۃ ہے۔رے اک میں عورتوں کو زیور بنوانے کی عادت ہے اس لئے قریبا سب عورتوں پر زکوۃ فرض ہوتی ہے۔وہ اس کا خیال نہیں رکھتیں حالانکہ یہ اتنا ضروری حکم ہے کہ رسول کریم نہ کی وفات کے بعد جب کچھ لوگوں نے زکوۃ دیتے انکار کیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا جب زکوۃ کی اُونٹ باندھنے کی رتی تک نہ دیں گے میں اُن سے جنگ کروں گا اور یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ جو ز کوۃ نہ دے وہ مسلمان نہیں۔تم اپنی حالت پر غور کرو تم میں سے بہت ہی نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے مسلمان نہیں رہتیں اور جو اس سے بچ جاتی ہیں اُن میں اکثر ز کوۃ نہ دینے کی وجہ سے مسلمان نہیں کہلا سکتیں۔روزہ رکھو تیرا حکم روزے کا ہے۔اس کے متعلق حکم ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آئے تو سوائے اُن دنوں کے جن میں خدا تعالیٰ نے عورتوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا ہے باقی دنوں میں روزے رکھنے چاہئیں۔اس کے متعلق مجھے زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ نماز یں تو نہیں پڑھتے لیکن روزے بڑی پابندی کے ساتھ رکھتے ہیں۔گو خدا تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ تماشا کے طور پر۔کہ رات کو اُٹھتے ہیں اور روزے کا خاص اہتمام کرتے ہیں حج خانہ کعبہ چوتھا حکم یہ ہے کہ اگر خدا تعالی کسی کو توفیق دے تو صبح کرے۔اس کے لئے کئی شرطیں ہیں۔مثلا مال ہو ، رستہ میں امن ہو اور اگر عورت ہو تو اُس کے ساتھ اُس کا خاوند یا بیٹایا بھیجا یا ایسا کوئی اور رشتہ دار محرم جانے والا ہو۔صدقہ و خیرات یہ تو وہ باتیں ہیں جو ایک مومن مرد اور عورت پر فرض ہیں۔ان کے علاوہ صدقہ و خیرات ہے۔یہ اگر چہ فرض نہیں لیکن دینا فرض ہے۔اپنے خاندان میں ، اپنے محلہ میں جو غریب اور محتاج ہو اس کو دینا چاہئے۔ہم احمدیوں میں صدقہ کا رواج بہت کم ہو گیا ہے جس کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ کہ احمدی جو چندہ دیتے ہیں اُسی کو صدقہ سمجھ لیتے ہیں حالانکہ دین کے لئے چندہ دینا اور بات ہے اور صدقہ دینا اور بات