اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 369

369 سونے چاندی کوکوئی رہ نہیں کیا کرتا۔ایک دفعہ ایک شخص نے کسی کو رات کے وقت صدقہ دیا۔وہ چور تھا جسے اس نے صدقہ دیا۔چور نے ایک اور آدمی کے ہاتھ پر رکھ کر کہا کہ کوئی بیوقوف مجھے خود ہی روپیہ دے گیا ہے صبح کو اُس نے اس کی ہنسی اُڑائی کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا۔دوسرے دن اُس نے پھر صدقہ دیا وہ کوئی فاحشہ عورت تھی۔لوگوں نے اس کی ہنسی اڑائی کہ ایسی عورت کو صدقہ دیا جس کا رو یہ شخص اور بدکاری میں صرف ہوتا ہے۔تیسرے دن اُس نے پھر ایک اور آدمی کے ہاتھ پر سو پچاس روپیہ رکھ دیا۔وہ کوئی امیر کبیر آدمی تھا۔تو صبح کو شور پڑ گیا کہ ایک امیر کبیر آدمی کو صدقہ دیا گیا بھلا اسے کیا ضرورت تھی۔تو سب نے روپیہ قبول کر لیا۔سونے چاندی کو تو کوئی چھوڑ نہیں سکتا۔اصل بات یہ ہے کہ حدیثوں میں جو آتا ہے کہ مسیح خزانے تقسیم کرے گا ایسے مسلمانوں کو جو محمد رسول اللہ کے ماننے والے ہیں مسیح موعود اُن کے آگے قرآن کے خزانے رکھے گا مگر وہ اسے اٹھا اٹھا کر پھینک دیں گے اور قبول نہیں کریں گے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكُوتَرَاے محمد ﷺ ہم تیری اولاد میں سے ایک روحانی بیٹا پیدا کریں گے جو علوم روحانی میں بڑی برکت والا ہوگا۔وہ ان روحانی خزانوں کو دنیا کے چاروں طرف تقسیم کرے گا مگر بد قسمت لوگ ان خزانوں کو ر ڈ کر دیں گے۔فَضَلَّ لِرَبِّكَ وَانْخَرُ جب کسی کو غیر ملے تو وہ بہت قربانیاں کرے اور بہت عبادت بجا لائے۔تم میں سے کئی ہوں گی جن کے دل میں خیال آتا ہوگا کہ ہماری بھی کیا قسمت ہے۔ہماری اولاد نہیں ہے یا ہماری جائداد نہیں ہے یا ہمارے خاوند کا رتبہ بڑا نہیں ہے یا ہمارے پاس دُنیا کے علوم نہیں۔مگر تم کو وہ چیز ملی ہے جو دُنیا کے بادشاہوں کو نہیں ملی۔سینکڑوں بادشاہ اس خزانے سے محروم ہیں۔اُن کی اولادیں ، اُن کے رشتہ دار، اُن کی عزتیں سب کی سب اس دُنیا میں موت سے پہلے ختم ہو جائیں گی ، فرشتے آئیں گے تو انہیں کوڑے لگائیں گے کہ نکالو اپنی جانیں۔وہ لوگ اسی دنیا میں اپنی چیزیں چھوڑ کر چلے جائیں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ذریعہ جو چیز تم کو ملی وہ آخرت میں بھی تمہارے ساتھ جائے گی۔خدا تعالیٰ نے عزت کے وہ خزانے تمہیں دئے ہیں کہ جو کبھی ختم نہ ہوں گے۔وہ لوگ جو سردار کہلاتے ہیں ، آقا کہلاتے ہیں، حاکم کہلاتے ہیں دوزخ میں ہاتھ پھیلا پھیلا کر کہیں گے کہ ہمیں ایک قطرہ پانی دے دو مگر مومن کہیں گے ہمیں خدا نے اجازت نہیں دی۔