اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 309
309۔نظام الدین کہنے لگے کہ میں پچاس آیتیں ایسی لے آؤں تو پھر تو آپ مان لیں گے۔حضرت صاحبہ نے فرمایا میں کہتا ہوں کہ اگر تم ایک آیت بھی لے آؤ گے تو میں مان لوں گا۔کہنے لگے کہ میں جاتا ہوں اور ہیں آیتیں محمد حسین سے لکھوا لاتا ہوں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ ایک ہی لے آئیں تو ہم مان لیں گے۔۔۔۔وہ کہنے لگے کہ اچھا میں آج ہی لاہور جاتا ہوں اور دس ہی لکھوا لاتا ہوں۔وہ لاہور گئے۔اُن دنوں میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بھی لاہور کسی کام آئے ہوئے تھے۔لوگوں کا خیال تھا کہ مولوی محمد حسین اور حضرت خلیفہ اول کا مباحثہ ہو جائے۔مولوی محمد حسین کہتا تھا کہ مباحثہ حدیث سے ہو اور حضرت خلیفہ اول کہتے تھے کہ قرآن سے ہو۔اتنے میں نظام الدین صاحب بھی لاہور پہنچے تو مولوی محمد حسین چینیاں کی مسجد میں بیٹھے تھے میاں نظام الدین جاتے ہی کہنے لگے مولوی صاحب چھوڑو اس اشتہار بازی میں کیا رکھا ہے میں حضرت صاحب سے آسان فیصلہ کر آیا ہوں کہ آپ قرآن سے دس آیت حیات مسیح کی تائید میں لکھ دیں اور حضرت صاحب تو کہتے تھے کہ ایک ہی لے آؤ مگر آپ دس لکھ دیں۔مولوی صاحب سخت برہم ہوئے اور کہنے لگے میں تو دو مہینے کی سخت تکلیف اور بحث کے بعد نور الدین کو حدیث کی طرف لا رہا تھا اور تم پھر قرآن کی طرف لے جارہے ہو۔میاں نظام الدین ایک منصف مزاج آدمی تھے کہنے لگے کہ اچھا جدھر قرآن ادھر ہم۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم بچے راستے پر ہیں اور قرآن وحدیث اور صلحاء امت ہمارے ساتھ ہیں۔ایسے ہی طریق ہیں سیدھا راستہ چلنے کے لئے جن پر تحریک جدید جاری کی گئی ہے۔اگر مرد و عورت اس کو اچھی طرح سمجھ لیں تو بس خدا کی نصرت ہمارے ساتھ ہوگی۔راستہ درست ہے اور اگر ترقی نہیں ہو رہی تو یہ ہماری کمزوری ہے۔مثلا تلوار تو ہے لیکن تلوار چلانی نہیں آتی۔قصہ ہے کہ ایک بادشاہ کا ایک اردو لی تھا جو تلوار کے ایک وار میں گھوڑے کے چاروں پیر کاٹ دیا کرتا تھا۔بادشاہ کے لڑکے نے دیکھا کہ یہ تلوار ایک وار میں گھوڑے کے چاروں پیر کاٹ دیتی ہے پس یہ تلوار بہت اچھی ہے۔اُس نے اردلی سے کہا کہ یہ تلوار مجھے دیدو۔اُس نے تلوار نہ دی۔وہ روتا ہوا بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں نے اردلی سے تلوار مانگی تھی لیکن اُسنے نہ دی۔بادشاہ نے اردلی کو بلا کر کہا تم کیسے نمک حرام نوکر ہو کہ ہمارا لڑکا تم سے تلوار مانگتا ہے اور تم نہیں دیتے۔سپاہی نے لڑکے کو تلوار دیدی لڑکے نے گھوڑے کے پاؤں کاٹنے چاہے مگر وہ نہ کئے وہ روتا ہوا پھر